ہم ناکام کیوں ہوتے ہیں؟

222 Views

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں وہ کامیابی حاصل کرے۔ ٹھہک اسی طرح ہر انسان کی یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ اسے ناکامی کا سامنا کبھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ عملی زندگی میں ایسا ہوتا نہیں۔ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی اعتبار سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج میں اپنے تجربے کے بنیاد پر اس کالم میں ناکامی کی کچھ وجوہات اپنے احباب کے سامنے رکھتا ہوں جو میری نظرر میں ناکامی کی بہت بڑی وجہ بنتی ہیں۔

لاپرواہی:                                 
میرے دوستو! لاپرواہی انسانوں کے ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ صاف بات ہے اگر آپ کوئی کام پوری توجہ سے نہیں کریں گے تو آپ اسے ٹھیک طرح سے نہیں کر سکیں گے۔ لاپرواہی ہماری پوری زندگی کو برباد کر سکتی ہے۔ لاپرواہی کا سب سے خطرناک رُخ یہ ہے کہ زندگی کے ایک میدان میں اسے اپنا لیا جائے تو اس کے نتیجے میں ہونے والی ناکامی آپ کی زندگی کے دوسرے حصوں پر بھی جلد ہی اثر ڈالتی ہے اور ناکامی کا دائرہ وسیع کر دیتی ہے۔ چناں چہ یہ اصول یاد رکھیے کہ جتنا زیادہ آپ توجہ، دل چسپی اور ولولہ و جوش سے کام لیں گے، آپ کا کامیاب ہونا اتنا زیادہ یقینی ہو جائے گا۔

غلط مقام:
ناکامی کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ناکام ہونے والا شخص صحیح مقام پر نہیں ہوتا۔ وہ غلط ملک یا شہر یا غلط ملازمت میں ہوگا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی مشغلہ غلط ہو۔ یہ ناکامی کی سب سے پیچیدہ وجہ ہے۔ آپ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کس وقت کوئی ملازمت یا شہر چھوڑ دینا چاہیے۔ ہو سکتا ہے آپ اس وقت درمیانے درجے کی ملازمت کر رہے ہوں جب کہ کسی دوسرے شعبے میں ہوتے تو عالمی سطح کا کام کر سکتے تھے۔ چناں چہ مختلف کاموں کا تجربہ ضرور کرنا چاہیے۔

اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پہ عائد کرنا:
اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا یا پھر دوسروں پر الزام عائد کرنا صرف مسئلہ نہیں بلکہ زہر بھرا اندازِ فکر ہے۔ آپ جانتے ہیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ کا کوئی اختیار نہیں، آپ بے اختیار و بے بس ہیں۔ جب ملکی معیشت زوال سے دوچار ہو تو سب اسے اپنی ناکامی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف انھی حالات میں بعض لوگ شان دار کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہوتا ہے؟ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ بدلے ہوئے حالات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں اور اپنی راہ نکال لیتے ہیں۔ بہانے تھوڑے وقت تک اچھے لگتے ہیں لیکن بے وقوف نہیں بنیے، یہ آپ کو ذرا سا بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ بہانے آپ کو صرف اور صرف نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کیجیے۔ اس طرح آپ کو بہتر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یاد رکھیے دنیا میں صرف آپ ہی کو اپنے پر کامل اختیار حاصل ہے۔

ناکامی پر دل شکستہ ہوتا:

باز اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے مقصد میں ناکامی پر دل شکستہ ہوجاتے ہیں۔ اور مزید کوشش کرنا چہوڑ دیتے ہیں۔ اگل بگل کے لوگوں کی باتین سن کر ذہنی مریض ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بس ہم کچھ نہیں کرسکتے، اب سب ختم ہوگیا۔ لیکن میرے دوست، ایسا ہرگز بھی نہیں ہے، جب تک آپکی سانسیں چل رہی ہیں سمجھو بہت کچہ ہونا ہے۔ اپنی ناکامی کو  اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنالیں اور  آگے بڑہتے جائیں۔ دل شکستہ ہونے سے زندگی جینے کا کوئی وجہ باقی نہیں رہتا۔ میرے دوستو، ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، ناکامی آتی ہے ہماری سپیڈ بڑھانے کے لیے، ہمیں روکنے کے لئے نہیں ۔ نیوٹن کا قانون ہے کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے، اگر آپ  ناکام ہوئے تو سوچیں ایسا کیوں ہوا۔ ناکامی کا سبب بننے والے جو پوائنٹس آپکو  بتائی ہیں تو ذرا سوچیں کیا ان میں سے ایک بھی پوائینٹ آپ میں ہے، اگر ہے ان پر وقت لگائیں، انہیں ترک کردیں اور ایسا ردعمل دیں کہ آپ کامیاب بن جائیں۔ اگر خدانخواستہ ہارنا ہی قسمت ہے تو ایسے ہاریں کہ آپ نہیں آپکو ہرانے  والا روئے۔ ایسے ہاریں کہ دنیا آپکے ہارنے پر روئے۔ شیر سے سبق سیکھیں، گیدڑ سے نہیں کیونکہ شیر جب زخمی ہوتا ہے تو دگنی طاقت سے حملہ کرتا ہے۔ لیکن گیدڑ جب زخمی ہوتا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے