اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو !

431 Views

کالم نگار: ظھیر بنگلانی

آج شاعرمشرق کا83 واں یوم وفات عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ انکی وفات جس کمرے میں ہوئی وہاں لگے گھڑیال کی سوئیاں صبح کے چاربج کرتین منٹ پر رکی ہوئی ہے جبکہ یہاں موجود کلینڈرپر آخری تاریخ 21 اپریل 1938 کی ہے۔

علامہ محمد اقبال 9، نومبر 1877ء بمطابق 3 ذوالقعدہ 1294ھ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ محمد اقبال کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخِ پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔انکی وفات 21 اپریل 1938 میں ہوی۔
شاعرمشرق نے اردو اور فارسی دونوں میں معیار ی شاعری کے وہ ایام قائم کیے جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی. ان کی شاعری کا بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت کو اسلام کی طرف گامزن کرنا ہے۔ اقبال نے‘‘دی ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام’’کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب تحریر کی۔
یے نومبر 1899ء کی بات ہے جب ایک شام کچھ دوست انھیں ایک محفلِ مشاعرہ میں لے گئے۔ بڑے بڑے استاد شعراء وہاں موجود تھے ۔علامہ اقبال اس وقت شاعری کے میدان میں بالکل نئے تھے، ۔ چنانچہ اقبال نے اپنی غزل پڑھنا شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ:

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

تو اچھے اچھے استاد شعراء بھی داد و تحسین دینے کے لیے مجبور ہو گئے۔ یہیں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد اقبال نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور مشاعروں میں باصرار بُلائے جانے لگے۔

حضرت اقبالؒ نے اپنی نظموں سے محکوم اور پسے ہوئے عوام کو حوصلے اور بیداری کا درس دیا، اقبالؒ نے زمینداروں اور کسانوں کی کشمکش میں غریب کسانوں کا ساتھ دیا۔۔۔ سرمایہ داروں اور مزدوروں کی کشمکش میں مزدوروں کا ساتھ دیا۔۔۔ امیروں کے مقابلے میں غریبوں کا ساتھ دیا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو، کاخ امراء کے درو دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے، کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی، اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

علامہ اقبالؒ اپنے اشعار میں نوجوانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں، نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے، امید مرد مومن خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر، تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اقبال فرماتے ہیں کہ:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا، لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی اِمامت کا

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں، جو ہو ذوق یقیں پیدا، تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

علامہ اقبالؒ کا پیغام ملاحظہ فرمائیے:

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز سلطانی، اخوت کی جہانگیری، محبت کی فروانی

بُتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا، خودی کا راز داں ہو جا ، خدا کا ترجماں ہو جا

کاش! کہ فکر اقبالؒ کی روشنی میں پاکستان کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور دانش وروں نے اپنے مستقبل کا تعین کیا ہوتا تو آج ہم غیروں کے دروازوں پر دھکے نہ کھا رہے ہوتے:

کھول کر آنکھیں میرے آئینہ گفتار میں، آنے والے دور کی دھندلی سی اِک تصویر دیکھ

Follow news10.pk on Twitter and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے