کیا پی ڈی ایم اور نواز شریف اب بھی ساتھ چل سکتے ہیں

334 Views

پاکستان کی سیاست کو سمجھنا اتنا آسان نہیں اور میرا اس پر تجزیہ کرنا بھی آسان نہیں ، پاکستان میں اس وقت کی سیاست سیاستدانوں کے لیئے بھی بہت مشکل بنی ہوئی ہے اس وقت ملک کی سیاست میں نئے چھرے میدان میں ہیں ان کو لیڈ پاکستان کی سیاست کا پرانا کھلاڑی مولانا فضل الرحمان کر رہا ہے لیکن در حقیقت اس اتحاد میں کوئی اتحاد اندرونی سطح پر نظر نہیں آتا یے ئی وجھ ہے کہ حکومت کو اس پر کوئی پریشانی نہیں

حکومت کو اپوزیشن سے نہیں پاکستان کے نظام سے ڈر ہے کہ یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے.

پاکستان کا 3 بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف نے پاکستان کے حساس ادارے جن سے ملک کا وقار اور ملک کا وجود ہے ان پر الزامات اور ٹاگیٹ کر کے بظاھر سیاست سے خد تو باہر ہوچکا ہے پر اپنی جماعت کو ایک سخت امتحان میں ڈال دیا ہے بلکل اس طرح جس طرح الطاف حسین نے  کیا، نواز شریف کے بیانات سے ان کی پارٹی کے رہنما ان پر خوش نہیں ہے پارٹی رہنمائوں کو میڈیا اور عوام میں وضاحتیں دینا مشکل بن گیا ہے

سب سے اہم بات اب اس اتحاد کے ساتھ نوازشریف کا ہونا اور اتحاد قائم رہنا ہے

 کیوں کہ سیاست  میں ھمیشہ مفادات کو ترجیح دی جاتی جب آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی جب بات کی تو نواز شریف نے  آصف زرداری سے ملنے سے انکار کر کے اپنے مفاد میں بھتر سمجھا  اور اس وقت نواز شریف اسٹیبلشمینٹ کے خلاف بیان دے کر اس اتحاد موجود رہنا مشکل ہے کیوں کہ سیاست میں ہر کوئی اپنی جگھ بنانے کے لیئے طاقتور قوتوں سے کبھی محاذ آرائی نہیں چاہتا

اس وقت نواز شریف کے بیانات نے حکومت کو مزید مظبوط بنا دیا ہے

نواز شریف نے اسٹیبلشمینٹ کے خلاف محاذ کھول کر اب ان کے لیئے کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ عمران خان کو سپورٹ کریں اور نواز شریف نے اپنے پر جلادیے ہیں

اب کیا بلاول بھٹو  نواز شریف کے بیانیئے کا ساتھ دے کر  طاقتور قوتوں سے تصادم  چاہے گا

آصف علی زرداری سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں وہ کبھی نہیں چائیں گے کہ بلاول اداروں سے تصادم کرے اور اپنی سیاست کو نقصان پہنچائے کیوں کہ بظاہر  (ن لیگ) دیوار سے لگ چکی ہے اور حکمران جماعت ملک چلانے میں بلکل ناکام بن چکی ہیں وہ 3 سال ہونے کو ہے بحرانوں سے نہیں نکل پائی ہیں اس دوران اب اگر ( پی ٹی آئی ) ڈلیور نہ کر پائی تو  اگلا آپشن بلاول ہو سکتے ہیں اگر وہ نواز شریف کی آگ میں نہ کودا تو

مولانا فضل الرحمان کیا چاہتے ہیں؟

مولانا فضل الرحمان کا پیپلزپارٹی پر اعتبار نہیں اور نا شھباز شریف سے خوش ہیں وہ اس اتحاد میں نواز شریف اور مریم نواز سے امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں کہ وہ اس نظام کو لپیٹنے میں انکا ساتھ دیں گے مولانا  چاہتے ہیں کہ اسیمبلیوں سے استعیفے دے کر  احتجاج کیا جائے اور حکومت کو گھر بیھجا جائے جس پر پیپلزپارٹی کو اختلاف ہے اور اتحاد میں موجود کوئی بھی جماعت ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں

کالم کے بارئے میں اپنی رائے دینے کے لیئے میل کرین

Shafimohammad002@gmail.com

Follow news10.pk on Twitter and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے