نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ عدالت کا ہے، ہم اتفاق نہیں کرتے، ایڈمنسٹریٹر کراچی

53 Views

کراچی: سپریم کورٹ کے حکم پر نسلہ ٹاور کو کنٹرولڈ بلاسٹنگ کے ذریعے مسمار کرنے کے لیے کمشنر کراچی نے سربراہ ایف ڈبلیو او اور ڈی جی ایس بی سی اے کو خط لکھ دیا جب کہ سوئی سدرن نے عمارت کے گیس کنکشن کاٹ دیے۔

کمشنر کراچی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ نے 7 روز میں فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا ہے، نسلہ ٹاور کی کنٹرولڈ ڈیمولیشن میں ایف ڈبلیو او انتظامیہ کو معاونت فراہم کرے اور سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں دو روز میں تکنیکی اور سیسمک سروے مکمل کرکے آگاہ کیا جائے۔

اس کے علاوہ کمشنر کراچی نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی تعاون کے لیے خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 7 روز میں نسلہ ٹاور کو کنٹرولڈ ڈیمولیشن کے ذریعے مسمار کرنا ہے اور عدالتی حکم ہے کہ دو روز میں تکنیکی سروے مکمل کرکے رپورٹ کمشنر آفس میں جمع کروائی جائے۔

کمشنر کراچی نے نسلہ ٹاور کو کنٹرولڈ ڈیمولیشن کے معاملے پر متعلقہ اداروں کے سربراہوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے اجلاس آج شام کو ہوگا۔

اجلاس میں ایف ڈبلیو او، این ایل سی، انجینئرنگ فائیو کور، کراچی پولیس چیف، وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی، ایم ڈی سولڈ ویسٹ، میونسپل کمشنر کراچی اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو مدعو کیا گیا ہے۔

دوسری جانب عدالتی حکم پر نسلہ ٹاور کے بجلی، گیس اور پانی کے کنکشنز منقطع کردیے گئے ہیں۔

نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ عدالت کا ہے، ہم اتفاق نہیں کرتے، ایڈمنسٹریٹر کراچی

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ عدالت کا ہے، سندھ حکومت اس سے اتفاق نہیں کرتی۔

مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر ہے کہ تمام اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں مگر ایسا نہیں ہے، میں ماضی میں کے ایم سی کے خلاف غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کروں یا کام کروں؟

انہوں نے کہا کہ عدالت نے دوسرے اداروں کی عمارتوں سے متعلق بھی فیصلہ دیا تھا، اس فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا عدالت سے پوچھیں، میں کام کرنے کو ترجیح دوں گا، میں کام کرنا چاہتا ہوں، کام کرکے اس ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کروں گا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا کہنا تھا کہ کارروائی کرنے کی کوشش کی تو لوگ عدالت سےحکم امتناع حاصل کرلیتے ہیں، جب مافیاز کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں تو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، مجھے بھی دھمکیاں دی گئیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کے ایم سی کے وسائل بڑھائے جائیں، ہم ٹیکس جمع کرنے جاتے ہیں تو اسد عمر ، عمران اسماعیل بیچ میں آجاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کل مجھےچیف جسٹس نے سپریم کورٹ بلایا تھا، مجھ سے سوالات پوچھے گئے کہ کراچی میں کیا ہورہا ہے، کوشش کی کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پوچھےگئے سوالات کا جواب دے سکوں مگر مجھے عدالت میں بولنے نہیں دیا گیا، اگر بولنے دیا جاتا تو بتاتا کہ کے ایم سی نے کیا کیا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے ایم سی اور کراچی پولیس کے کنٹرول میں نہیں آتا، یہ ایکسپریس وے این ایچ اے کے کنٹرول میں آتا ہے، میں نے این ایچ اے سے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک کی اجازت کیوں نہیں، گورنر صاحب نے بھی لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کیلئے استعمال کرانے کی کوشش کی مگر گورنر صاحب کی این ایچ اے نے بات نہیں سنی۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے بتایا کہ سندھ حکومت مختلف پروجیکٹس پر کام کررہی ہے، سینڈس پٹ روڈ، ماڑی پور روڈ کو سندھ حکومت نے بنایا، ان شاء اللّٰہ ہفتے کے روز وزیراعلیٰ سندھ منوڑہ روڈ کا افتتاح کریں گے، کراچی کی مختلف صنعتوں کی تعمیر کےلئے سندھ حکومت نےپیسے دیئے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ ذوالفقار آباد کا میرا چوتھا دورہ ہے، ہرجگہ میڈیا لے کر نہیں جاتا، میں نے پہلا وزٹ کیا تو بتایا گیا کہ سڑک خراب ہے، میں نے 60 روز میں اس سڑک کو بنوایا ہے، میرے آنے سے قبل اس ٹرمینل پر کے ایم سی کی زیرو روپے آمدن تھی۔

انہوں نے کہاکہ 60 روز میں کے ایم سی نے 25 لاکھ روپے آمدن کی ہے، کل جب ہمیں عدالت بلایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اہم اجلاس جاری تھا، اجلاس سندھ کے سب سے بڑے اکنامک زون سے متعلق تھا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی کاکہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اجلاس میں ڈی سیلیٹیشن پلانٹ پر مشاورت ہوئی، اگلے دو سالوں میں یہ پانی کراچی والوں کو ملے گا، یہ خیالی باتیں نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہیں، کے ایم سی ساحلی پٹی پر 80 کروڑ روپے کی لاگت سے سڑک بنانے جا رہی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ کراچی کے کسی علاقے میں گھر کا کرایہ 3 ہزار سے کم نہیں ہے، ہاکس بے پر ہٹس کا کرایہ 1400روپے رکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے