بندوق میری کندھا کسی اور کا، آج کی سیاست سے لیکر ہر دور کی کہانی

148 Views

بندوق میری کندھا کسی اور کا، آج کی سیاست سے لیکر ہر دور کی کہانی

دنیا کی تمام حکمرانے دور سے لیکر چاہئے وہ بادشاہی دور ہو،  سیاسی ہو ، قبیلائی ہو ، وڈیرہ شاہی ہو، افسر شاہی ہو  ہر کوئی چاہتا ہے کے کاندھا کسی اور کا ہو شکار میں کروں.

آپ جب ایک نظر گذرے دور کی حکمرانی کی تاریخ کے کتابوں پر ڈالین گے تو  لاکھوں لوگوں نے زندگی اس لیئے گنوادی کہ ان کا کندھا اپنی مقصد کے لیئے کسی اور نے  استعمال کیا ، چاہیے وہ حکمرانی حاصل کرنے کے لیئے ہو  یا کسی کی حکمرانی گرانے کے لیئے ہو، اس کی سب سے بڑی مثال آمریکا کی افغانستان میں جنگ ہے۔  جس نے پاکستان کے کاندھے پر بندوق رکھ کر پوری جنگ لڑی اور وہ جیتا یا ہارا پر  ہمیں استعمال کر کے نکل گیا ، نقصان ہمارا ئی ہوا۔۔

ہمارے ہا تو لوگ اپنا کندھا دینے کے لیئے لائنیں لگی ہوتی ہے

اب چلتے ہیں ہمارے ملک کی طرف جس میں تو یے سلسلہ عروج  پر  ہے ، چاہیئے حکمرانی ہو، سیاست ہو، افسر شاہی ہو  ہر کوئی اپنا مقام حاصل کرنے کے لیئے کسی اور کا کندھا استعمال کرنا چاہتا ہے، ہمارے ہا حکمران بس ایک کندھا ہے بندوق کوئی اور چلاتا ہے ،

 یے تاثر عام جام ہے یہاں وہ ئی چلتا ہے جو کندھا دینے کے لیئے تیار ہو،  ہماری ارد گرد میں ایسے لوگ عام ہیں جو کسی اور کی بندوق لیئے آپ کے سامنے آتے رہتے ہیں، پھر چاہیئے حکمرانے کے ترز پر ہو یا کسی افسر، وڈیرہ ، سیاسی ہو ، اس کو اچھی طرح بندوق چلانے والا استعمال کرتا رہتا ہے اور  وہ  خد کو بڑا سمجھ کر کندھا اوٹھائی دنیا کو باور کرانے میں لگے رہتے ہیں کے ہم سا کوئی نہیں۔۔

آپ جہاں نظر ڈالیں تو یے ایک روایت بنی ہوئی ہے سیاست دان کے ڈیرے ، افسر کا بنگلا، وڈیرے کی اوطاق پر ایسے لوگ صبح سے لیکر شام تک اپنا کندھا لیئے باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں موقع دیا جائے پھر موقع ملتے ئی آس پاس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اگر کامیاب ہو گئے تو بندوق چلانے والے کو فائدہ ، اگر وہ  بدنام ہوگیا تو کندھے والا بدنام، اور ایسے بدنام کندھے والوں کی تاریخ بن جاتی ہے جو  صدیوں تک ہر بدنامی پر دہراتی رہتی ہیں ۔ اور یے سلسلہ کبھی رکا نہ ئی شاید کبھی رک پائے۔

اس کالم کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لیئے ای میل کریں۔

shafimohammad002@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے