دال میں کچھ کالا ضرور ھے

96 Views

دال میں کچھ کالا ضرور ھے

۔۔۔محمد امانت اللہ ۔ جدہ

وطن عزیز میں تین ادارے مختلف سوچ و تربیت کے حامل ہیں جو ملک کو چلا رہے ہیں۔
ہر وقت یہی سننے کو ملتا ھے ہر ادارہ اپنے حدود میں رہ کر کام کرے مگر ایسا دیکھنے میں نہیں آتا ھے
پہلا ادارہ مقننہ و انتظامیہ ھے جس کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ھے
دوسرا ادارہ عدلیہ ھے جس کا سربراہ چیف جسٹس ہوتا ھے اور تیسرا ادارہ اسٹیبلشمنٹ ھے جس کا سربراہ چیف آف آرمی سٹاف ہوتا ھے۔
مقننہ و انتظامیہ کے پاس اختیار ھے وہ چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف کو تعینات کرتا ھے۔
مقننہ و انتظامیہ میں سیاسی لیڈران ہوتے ہیں پارلیمنٹ ہوتی ھے جو حکومتی نظام چلاتی ھے
بدقسمتی سے ہمارے پارلیمنٹ میں ہر طرح کی مافیا موجود ھیں الیکشن میں اکثر دھاندلیوں کے ذریعے ہی یہاں تک پہنچتے ہیں
انکا ماضی داغدار ھے چوری چکاری بلیک میلنگ رشوت ستانی دو نمبری
انکے خون میں رچ بس گئی ھے
لوگ انکے شر سے بچنے کے لیے انکی عزت کرتے ہیں
جب کبھی مشکل میں پھنستے ہیں
عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ یا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ان پر ہاتھ ڈالتی یہ فوراً مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔
دوسرا ادارہ عدلیہ اس میں وکیل حضرات جو ساری زندگی کالا کوٹ پہن کر کالے دھن کو سفید بنانے کے طریقے سمجھاتے رہتے ہیں
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنا انکا پیشہ ھے
ترقی پا کر یہی لوگ جسٹس اور چیف جسٹس بن جاتے ہیں۔
انکے رگوں میں کالا خون دوڑ رہا ھے
تیسرا ادارہ اسٹیبلشمنٹ ھے۔ سپاہی بھرتی ہوتے ہیں اور ترقی کرکے چیف آف آرمی سٹاف بن جاتے ہیں
انکی ٹریننگ یہی ہوتی ھے کہ بس آپنے یس سر کہنا ھے
جب افسر بنتے ہیں انکو یہی سننے کی عادت ہوتی ھے یس سر
ان سے کوئی سوال نہیں کر سکتا ھے

تین مختلف قسم کے ادارے اس ملک کے بائیس کڑور عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے اپنے داؤ پیچ استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔
تینوں ادارے ایک دوسرے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں
انکے ذہن میں ایک چیز گھوم رہی ہوتی ھے ہمیں کیا ملے گا
انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ھے ہماری لڑائی سے ملک کس دوراہے پر پہنچ گیا ھے
یہ ادارے کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے ہیں جب تک یہی نظام چلتا رہے گا
پرانی گاڑی کو پینٹ کر دینے سے نئی نہیں ہو جاتی ھے۔ ان اداروں میں صرف نئے نئے چہرے آتے جاتے رہے ہیں مگر نظام ہو وہی پرانہ چل رہا ھے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں جمہوریت ھے وہاں دو ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہوتے ہیں مقننہ اور انتظامیہ
مقننہ میں اپوزیشن ہوتی ھے جو حکومت کے انتظامی امور پر نظر رکھتی
اگر کہیں خلاف قانون کوئی چیز نظر آئے وہ عدلیہ سے رجوع کرتے ہیں اور عدلیہ انصاف پر مبنی فیصلے کرنے پر مجبور ہوتی ھے ورنہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے عدلیہ کے خلاف کاروائی ہو سکتی ھے مگر ایسا دیکھنے میں کم ہی آیا ھے کیونکہ ادارے کے سربراہ کو اپنی عزت سے زیادہ ادارے کا وقار عزیز ہوتا ھے۔
افسوس آج وطن عزیز میں ہر ادارے کے سربراہان کے اوپر لوگ سرے عام انگلیاں اٹھا رہے ہیں تقاریر کر رہے ہیں اور کالم لکھ رہے ہیں۔
روزآنہ ٹی وی ٹاک شوز میں اداروں اور انکے سربراہان کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔
اداروں کی خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ھے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے