"مذہبی آگاہی” اسلام امن پسندی کی تعلیم دیتا ہے

165 Views

مذہبی آگاہی

۔۔۔محمد امانت اللہ ۔ جدہ

اسلام امن پسندی کی تعلیم دیتا ھے
بھائی چارے کو فروغ دیتا ھے، عفو اور درگزر کی تربیت دیتا ھے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین ہیں انکی زندگی ہم سبھوں کے لیے ایک نمونہ ھے۔
انکی سنت پر عمل کرنا ہر مسلمان پر لازم ھے۔
ایک انسان کا قتل ایک انسانیت کا قتل ھے۔
یہ وہ کلمات ہیں جو ہمارے دینی رہنما اور دینی جماعتوں سے سربراہان اکثر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
جب ہم انکے قول و فعل پر نظر ڈالتے ہیں تو اسکے برعکس۔
ہر دینی جماعت اپنی مدرسوں میں اپنی مرضی کا نصاب پڑھا رہی ھے
حکومت نے بارہا اس بات کی طرف نشاندہی کر چکی ھے ۔ مدرسوں کو قومی دھارے میں لایا جائے۔
ایک جیسا نصاب سبھوں کو پڑھایا جائے گا مگر عملی طور پر ابھی تک ممکن نہیں ہوا ھے۔
درحقیقت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دینی رہنما اس بات پر متفق نہیں ہوتے ہیں۔
اگر قرآن اور سنت پر عمل شروع ہو گیا تو انکی دکانداری کیسے چلے گی مدرسوں پر انکی اجارہ داری خطرے میں پڑ جائے گی۔
مذہبی جماعتیں الیکشن کے لیے تو ایک ساتھ مل کر ایم ایم اے اور اسلامی جمہوری اتحاد تو بنا لیتی ہیں مگر ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتی ہیں۔
ملک میں خواندگی شرح نہ صرف برصغیر بلکہ ساؤتھ ایسٹ اشیاء میں سب سے کم ھے۔
عام آدمی مولویوں اور دینی جماعتوں پر اندھا اعتماد کرتے ہیں انکی کہی ہوئی بات کو دین سمجھ کر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
بہت سارے فرقوں کا اولین مقصد لوگوں کو آپس میں لڑانا، ایک دوسرے کو کافر قرار دینا ھے۔
ہر دینی جماعت کا دعوی ھے ہم سیدھے راستے پر گامزن ہیں۔
سیالکوٹ کے واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے۔
کسی بھی دینی جماعت کا یہ موقف سامنے نہیں آیا کہ ہم پر لازم ھے کہ ہم حکومت وقت کی اطاعت کریں۔

مشہور عالم دین نے کہا تھا اسلام کو سب سے بڑا خطرہ ان لوگوں سے جو دین کی سمجھ نہیں رکھتے اور دین کے معاملے میں جذباتی ہو جاتے ہیں۔

سیالکوٹ میں ہونے والا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ھے۔
ہمارے معاشرے کی سوچ کا یہ پہلو بھی سامنے آیا ھے۔
سیالکوٹ واقعے کے جتنے گرفتار ہوئے ہیں ان کے لئے کل چھ دیگیں کھانے اور 70 کمبل سیالکوٹ کے تاجروں کی طرف سے پہنچائی گئی ہیں۔
بہت جلد بہت سے وکیل انکا کیس مفت لڑنے کا اعلان کریں گے۔ اور پھر مستقبل میں یہی وکیل جج بھی بنیں گے۔
یے نا مزے کی بات؟
جب آپ ایک ذہنی مریض، متشدد جاہل مذہبی شدت پسند کو ہیرو بنائیں گے تو پھر کل کو آپکا یا آپ کے رشتہ دار کا بھی گلہ کٹے گا یا جل کر مرے گا۔
بطور معاشرہ ہم نہ صرف ان پڑھ جاہل ہیں بلکہ اپنے دین کے بنیادی اصول و ضوابط سے بھی نابلد، قرآن سمجھنا تو ہمارے ہاں ناممکنات میں سے ہیں کیونکہ ہر مولوی بس تلاوت کے فضائل کے انبار لگاتا رہتا ہے۔
یہ متشددانہ سوچ صرف لبیک والوں کا نہیں ہم سب کا ہے بطور معاشرہ۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کا بائیکاٹ ہوتا، ان کی ضمانت کے لئے کوئی بندہ نہ ملتا اور نہ ہی وکیل۔
لیکن اس کے برعکس ہو رہا ہے اور یہ اس ملک کی بنیادیں توڑنے کی طرف جانے والا رویہ ہے۔
قاتل نے اعتراف جرم کیا ھے۔ ایف آئی آر کٹے گی چالان جمع ہوگا اور پھر پیشی پر پیشی۔
ایک طویل عرصے کے بعد فیصلہ آئے گا جس میں بہت سے لوگوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
چند لوگوں کو سزا ہوگی ایک عرصہ بیت جائے گا اور پھر کوئی اس سے بھی بڑا سانحہ ہو جائے گا اور لوگ سیالکوٹ کے واقعہ کو بھول جائیں گے۔
مذہبی آگاہی کا یہ عالم ھے گدھے گھوڑے کو ذبح کرنے سے قبل اللہ اکبر کہنا نہیں بھولتے۔
حرام کی کمائی سے خریدے ہوئے فلیٹ کو بڑے فخر سے کہتے ہیں
الحمداللہ یہ ہمارے ہیں۔

Follow news10.pk on Twitter, instagram and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے