آن لائن بینکنگ اور خریداری کی وجہ سے مالیاتی فراڈ میں 63 فیصد اضافہ

75 Views

 کراچی: آن لائن بینکنگ اور خریداری کی وجہ سے بینکنگ سسٹم  ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ مالیاتی فراڈ میں 63 فیصد اضافہ ہوگیا۔

کورونا وائرس کی وبا کے دوران ڈیجیٹل لین دین اور آن لائن بینکاری بڑھنے کے ساتھ بینکوں کی خدمات سے متعلق صارفین کی شکایات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔

بینکنگ محتسب کی رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے دوران بینکنگ محتسب کو بینک صارفین کی 25 ہزار 500 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 84 فیصد شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے صارفین کو مجموعی طور پر 59 کروڑ 80 لاکھ روپے کا ریلیف دلایا گیا۔

2019ء میں 15 اور 2020ء میں 25 ہزار شکایات موصول

بینکنگ محتسب محمد کامران شہزاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سالانہ رپورٹ جاری کی اور بتایا کہ بینکنگ محتسب کو 2019ء میں 15 ہزار 600 شکایات موصول ہوئیں تاہم 2020ء میں شکایات کی تعداد 25 ہزار 500 تک پہنچ گئی جو ایک سال میں 63 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، بینک صارفین کی شکایات میں نمایاں اضافہ ڈیجیٹل بینکنگ کی وجہ سے ہوا۔

رواں سال شکایات کی تعداد 40 ہزار تک پہنچ جائے گی

رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران جس تیزی سے شکایات بڑھ رہی ہے اس سے اندیشہ ہے کہ رواں سال شکایات کی تعداد 40 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

پانچ بڑے بینکوں کی شکایات زیادہ، متاثرین میں 89 فیصد مرد اور 11 فیصد خواتین

کامران شہزاد کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی بھی بینکنگ محتسب سے رجوع کررہے ہیں، شکایت کرنے والے صارفین میں 89 فیصد شکایت کنندہ مرد اور 11 فیصد خواتین تھیں، وزیر اعظم پورٹل سے بھی 10 سے 12 ہزار شکایات موصول ہوئیں، پانچ بڑے بینکوں کی شکایات زیادہ ہیں۔

ریکوری کیلیے رات کو کال نہیں ہوسکتی

بینکنگ محتسب کا کہنا تھا کہ بینک ریکوری کے لیے غیرمناسب رویہ اختیار نہیں کرسکتے، ریکوری کے لیے رات کو کال نہیں ہوسکتی، خواتین کو طلب نہیں کیا جاسکتا، خلاف ورزی کرنے والے بینکوں پر جرمانے عائد کیے جاسکتے ہیں۔

صارف کی درخواست کے بغیر انٹرنیٹ بینکنگ آن نہ کی جائے

بینکنگ محتسب نے کہا کہ بینک صارفین میں آگاہی پھیلانے پر زور دیں، عوام کو آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ، اے ٹی ایم ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق شکایات میں ایک ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے، بینک کو چاہیے کہ وہ صارف کی درخواست کے بغیر انٹرنیٹ بینک کی سہولت ایکٹو نہ کریں۔

بینکوں کی ہیلپ لائن جیسے نمبروں سے بھی دھوکا دہی کی کالیں آتی ہیں

انہوں نے کہا کہ بینک صارفین کو مختلف اداروں کے نام پر کالز کی جاتی ہیں، بینکوں کی ہیلپ لائن جیسے نمبروں سے بھی صارفین کو دھوکا دہی کی کالیں کی جاتی ہیں آن لائن دھوکا دہی سے متاثرہ صارفین کو بینکوں سے بھاری مالیت کی رقوم واپس دلوائی گئی ہیں، بینکنگ محتسب نے اپنے قیام سے اب تک 2000 آرڈرز جاری کیے جن میں سے 95 فیصد پر عمل درآمد بھی کرایا گیا۔

بل جمع کرانے والے بھی بینکنگ محتسب سے رجوع کرسکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ بل جمع کرانے والے کسٹمرز بھی بینکنگ محتسب سے رجوع کرسکتے ہیں، ملک میں بینک کسٹمرز کی تعداد 6 کروڑ ہے، 34 بینک ملک میں خدمات فراہم کررہے ہیں اس لحاظ سے بینکنگ محتسب ایک بڑے طبقے کے حقوق کا تحفظ کررہا ہے۔

انشورنس کمپنیاں بینک صارفین کا ڈیٹا استعمال کررہی ہیں

ایک سوال پر بینکنگ محتسب نے کہا کہ صارفین کے ریکارڈ کے تحفظ کے لیے سفارشات اسٹیٹ بینک کو ارسال کردی ہیں دیکھنے میں آیا کہ انشورنس کمپنیاں بینکوں کے صارفین کا ڈیٹا استعمال کرکے انہیں کال کرتی ہیں اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کو سفارشات بھیج دی ہیں اسٹیٹ بینک آئندہ ماہ تک نظر ثانی شدہ ہدایات بینکوں کو جاری کرے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے