پاکستان خوش قسمت ملک ہیں جہاں پر متفقہ آئین موجود ہے: خورشید شاہ

239 Views

سکھر(یارمحمد سومرو)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہاہے کہ پاکستان خوشقسمت ملک ہیں جہاں پر متفقہ آئین موجود ہے جس میں اگر کوئی چھیڑ چھاڑ یا آرڈیننس وغیرہ کے ذریعے ترمیم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھرکی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم ملک کو متفقہ آئین دینے پر بھٹو کے شکر گذار ہیں ملک میں مارشل لا کے دوران اس آئین کو بگاڑدیا گیا لیکن پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آکر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اسے اس کی اصل شکل میں بحال کیا سینیٹ الیکشن کے حوالے سے بھی آئین موجود ہے اگر اس میں ترمیم کی ضرورت ہے تو اس کے لیے آرٹیکل 226 موجود ہے حکومت اسے پارلیمنٹ میں لاکر اس پر بحث کرائے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ریاست کی مضبوطی اور شناخت کا دارو مدار اسی آئین پر ہے اگر صدارتی آرڈیننس یا کسی اور ذریعے سے آئین میں ترمیم کی کوشش کی گئی تو پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہوجائے گی مگر اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمران خان نے اپنے پہلے دن سے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی اسے تسلیم نہیں کیا اسے پتہ ہی نہیں کہ پارلیمنٹ کیا ہوتی ہے میں اسے شاباشی دیتاہوں کہ وہ اپوزیشن میں رہ کر جو الفاظ پارلیمنٹ کے لیے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے آج بھی ان ہی پر قائم۔ہیں اس کے سامنے پارلیمنٹ کی نہیں حکومت کی اہمیت ہے خورشید شاہ کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ. وہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ دینے ضرور جائیںنگے یہ ان کی آئینی ذمہ داری ہے جسے وہ پورا کریں گے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں غلط روایت تو خود حکومت نےسینیٹ انتخابات میں 14 ووٹ خرید کر ڈالی تھی ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران جیت کے دعوے کرنا سیاست کا حصہ ہیں اس سے مخالفین کو خوفزدہ کیا جاتاہے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا سیاسی ماحول اس وقت گرم ہے اور سینیٹ انتخابات اس وقت سیاست کا ہاٹ ایشو ہے ایسے میں اپوزیشن اپنی توانائیاں جلسوں اور ریلیوں پر استعمال نہ کرے بلکہ انہیں لانگ مارچ میں استعمال کرنے کےلیے بچاکر رکھے ان کا کہناتھا کہ عمران خان کو پتہ ہونا چاہیے ورنہ ان کی پارٹی میں دو چار سمجھدار لوگ موجود ہیں جو انہیں سمجھا سکتے ہیں کہ الیکشن کے دن تمام مشینری چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتی ہے اور حلیم عادل شیخ کی گرفتاری ان ہی کے حکم پر ہوئی ہوگی اس میں سندھ حکومت کا ہاتھ نہیں ہے خورشید شاہ نے اس موقع پر مسلم لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک نڈر سیاسی ورکر تھے ان جیسے نڈر سیاسی ورکرز کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔