کشمیر پرغاصبانہ قبضہ اور اقوام متحدہ کی خاموشی…!

194 Views

دیکھا نہیں جاتا اب مظلوم کا یہ عالم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم​

پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یکجھتی کا دن منایا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندستانی افواج نے اپنا غاصبانہ جما رکھا ھے۔ہر آئے دن ان درندوں کا ظلم بڑھتا جا رہا ھے۔1947ء سے لے کر اب تک ہزاروں بے قصور عام شہریوں کو ہندستانی افواج نے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ھے۔  ہر عام شہری کے بنیادی حقوق جو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں اسے وہ پامال کر رہے ہیں. اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق جو بنیادی حقوق ہیں وہ  "بنیادی حقوق مشترکہ اقدار جیسے وقار ، انصاف پسندی ، مساوات ، احترام اور آزادی پر مبنی ہیں۔ یہ اقدار اقوام متحدہ کے قانون کے ذریعہ بیان اور محفوظ ہیں”

                                          
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندستانی افواج کا کشمیر پر قبضہ اقوام متحدہ کی 1947ء کی قرار دادوں کے بلکل خلاف ہے۔لیکن 74 برس بیت گئے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا۔ ان کشمیریوں کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہیں
"پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”

تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے کشمیر پر ظلم و ستم کی کوئی ایک قسم بھی ایسی نہیں چھوڑی جو آزمائی نہ گئی ہو۔ انسانوں کو قتل کیا جاتا ہے، بد ترین اور بھیانک ترین مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اغواء کرکے لاپتہ کردیا جاتا ہے اور اگر حریت قائدین ہوں تو نظر بند بھی کیا جاتا ہے۔

بھارتی فوج بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی عزت و ناموس کی بھی دشمن ہے۔ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی، قتل و غارت اور مارپیٹ کشمیری عوام کیلئے معمول بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ظلم و ستم کی جو قسم ذہن میں آسکتی ہے، وہ کشمیریوں پر ضرور روا رکھی جاتی ہے۔ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پرخاموش کیوں ہے؟؟؟؟؟

 لاکھوں افراد کی حق خود ارادیت سے محرومی اکیسویں صدی کا المیہ ہے انسانیت سوز مظالم سے دنیا بھارتی جارحیت سے آگاہ ہوچکی ہے تاہم خاموشی افسوسناک ہے عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے بجائے تماشائی بن چکی ہے اعتدال پسند دنیا میں موجود تنظیموں نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو پہچان لیا ہے اپنی فوجی طاقت پر بھروسہ رکھنے والا بھارت چین سے فوجی محاذ پر مار کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اوندھے بل گرنے کے بعد چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

 اہم بات یہ ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن رپورٹ میں انسانیت کے خلاف جنگی مجرم ثابت ہوا اس ضمن میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔  امریکہ سمیت عالمی مقتدر طاقتوں کو اس سنگین مسئلے پر اپنا جائز کردار ادا کرنا چاہئیے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں سے خطے کے امن و استحکام شدید خطرات لاحق ہیں۔  پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آزاد ملکوں پر کیسے قبضے کروائے گئے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف بولنے والے بھی جہاد کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خاموش رہنے سے اس کو تقویت ملتی ہے کہ آپ بھی ان کے جرائم میں شامل ہیں اور جارحیتوں کے ذمے دار بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کی المناک صورتحال کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتی ہیں مسئلے کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں آواز بلند کریں دباؤ بڑھا ئیں ۔

سب اس بات سے آشنا ہیں کہ کشمیر میں مسلمان ہی بستے ہیں نہ لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس طرح ان کے حق میں آواز بلند نہیں کر رہے ۔موجودہ حکومت نے جب ریاست مدینہ کی بات کی تو بہت خوشی ہوی کہ اب مظلوم کو انصاف ملے گا۔لیکن سب امیدیں بے سود۔پاکستان سے ہی کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر ریے۔


اور دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔اس کا تو یہ حال ہے کہ ظلم و بربریت کے خلاف اجلاس منعقد ہونے میں ہی تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔اس ظلم و ستم کے خلاف فوری طور پر اجلاس منعقد ہونا چاہیے اور تمام مسلم ممالک کو بھارت کے ظلم کا جواب دینا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے