آصف علی زرداری نے وہ کچھ حاصل کرلیا جو کبھی نہیں کر سکتے تھے

264 Views

سیاست میں سیاست نہ ہو  یے  ہو ئی نہیں سکتا اور اگر سیاست ہو پاکستان کی تو واہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے یے میں پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں کیوں کہ یھاں سیاسی جماعتوں میں موجود کھلاڑی کب کسی جماعت میں چلا جائے کسی کو پتا نہیں ہوتا تو ان کے لیڈران کب کہیں دوسری جماعت سے دھوکا کر جائیں یے ممکن تھا اور  پھر وہ ئی ہوا جو میں نے کل کالم لکھا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کبھی اپنا تخت سندھ نہیں چھوڑے گی پر بات اتنے تک نہیں تھی یھاں زرداری نے وہ کچھ حاصل کرلیا جو کبھی نہیں کر سکتا تھا 30 سال کے مسلم لیگ ن سے  بدلے 1 سال میں لے لیئے ، جو مسلم لیگ ن کبھی نہیں کر سکتی تھی، وہ سب کچھ کروا دیا،  مریم کی بینظیر کی ورسی میں شرکت گڑھی خدا بخش بلا کر جیئی بھٹو کے نعرے سے لیکر سندھ حکومت کی تعریفیں پھر  بھٹو سے لیکر بینظیر تک اور پھر یوسف رضا گیلانی پر تنقیدوں پر معافیاں یے سب کجھ ویسے کبھی ممکن نہیں تھا اور پھر مولانا فضل الرحمان کی بات کی جائی اس کو بھی پ پ نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر رسوا کیا پھلے لانگ مارچ سے لیکر اب تک صرف استعمال کیا اب کل کے اجلاس میں جس طرح آصف علی زرداری نے نواز شریف اور مریم نواز پر وار کیا اور کہا کہ میاں صاحب وطن آئیں گے تو استعفے ان ہی کے پاس جمع کروائیں گے، نواز شریف کو جنگ کرنی ہے تو پاکستان آنا ہو گا، اسمبلیاں چھوڑنا عمران کو مضبوط کرے گا۔ دوسری جانب مریم نواز نے نواز شریف کی پاکستان واپسی کے لیے آصف زرداری ہی سے ضمانت مانگ لی اور کہا کہ نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کے بعد آصف زرداری کے بیان کے بعد  پی ڈی ایم میں کھلبلی مچ گئی  حالانکہ استعفوں ک معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف شروع دن سے ہے  کہ وہ استعفے نہیں دینگے  پر معاملہ شروع یہاں سے ہوا کہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن کا ہو گا یا پیپلز پارٹی کا ،اس سے قبل ن لیگ مطمئن تھی کہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر ان کا ہی ہوگا جیسا کے پی ڈی ایم اجلاس میں طئے ہوا تھا پر اب پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو  سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنایا جائے اور پھر بات دور تک چلی گئی اور پی ڈی ایم اختتام کے قریب پھنچ گیا جو حکومت کا اختتام کرنے آیا تھا،  اب ایک طرف یے باتیں گردش میں ہے کہ زرداری نے جو کچھ کیا ہے سب کسی ڈیل کا نتیجہ ہے کیوں کہ زرادری بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کر کہ خد بھی دبئی فرار ہو گئے تھے اور  واہ سے سندھ حکومت چلاتے رہے،  اس وقت نواز شریف باہر ہے تو اس پر اعتراض کیسا اب دیکھنا یے ہے کہ پ پ کیا فیصلہ کرتی ہے لیکن سب سے زیادہ مشکل میں ن لیگ پڑگئی ہے کہ وہ اکیلے استعفے کبھی نہیں دینگے کیوں کہ اس طرح پ پ الیکشن میں حصہ لینگی اور پی ٹی آئی اور پ پ میں مقابلہ ہوگا اور پنجاب میں پ پ کو ایک اسپیس ملے گا جس سے بلاول بھرپور فائدہ اوٹھائے گا اور  یے  ن لیگ کبھی نہیں ہونے دینگی،  اب معاملہ حکومت کے لیئے پرسکون ضرور ہے پر دوسرے طرف خدشہ ہے پی ٹی آئی کے لیئے کہیں زرداری اپنا راستہ صاف کر کے اگلا امیدوار نہ ہو جائے اداروں کا۔۔۔ کیوں کے اس وقت زرداری پی ڈی ایم پر بھاڑی پڑ چکا ہے۔۔۔۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لیئے  میل کریں–

shafimohammad002@gmail.com

Follow news10.pk on Twitter and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے