اب پی ڈی ایم کس طرف جائیگی؟ کیا اب یے اتحاد برقرار رہ پائے گا؟

213 Views

اب پی ڈی ایم کس طرف جائیگی؟ کیا اب یے اتحاد برقرار رہ پائے گا؟

پاکستان کی سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اس پر تجزیہ مشکل سے مشکل ہوتا ہے یہاں کوئی کسی کے ساتھ کب ہاتھ کر جائے ہر کوئی اس سے خد کو بچانی کی کوشش میں لگا رہتا ہے، سینیٹ الیکشن کے پورے سیزن میں جو کچھ ہوا جس طریقی سے کھیل کھیل میں پی ڈی ایم  نے جیتا میچ ہار دیا اور جس طرح 22 سال کی جدجھد والا کھلاڑی عمران خان  زرادری پر بھاری پڑ گیا بظاہر  یے میچ  پی ڈی ایم جیت چکی تھی پر عمران خان نے (ہم ڈوبے تو صنم تم کو بھی لے ڈوبے گے) کے طرح کا بیان دیا کہ ضرورت پڑنے پڑ اسیمبلیاں توڑی جائینگی والی بات دور تک گئی جو کام کر گئی، اب پی ڈی ایم کو عمران خان نے واہ کھڑا کردیا ہے کے  یے اتحاد  اب متحد رہنا مشکل بن سکتا ہے، کیوں کہ پی ڈی ایم  میں جماعتیں ایک دوسرے کو اپنے مفاد کے لیئے استعمال کر رہی ہیں نواز لیگ کبھی نہیں چاہ رہی تھی کے یوسف رضا گیلانی سینیٹ چیئرمین بنے  اور نا مولانا غفور حیدری ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو کیوں کے اس سے پ پ نمبر گیم کے چکر میں پڑ جائی گی اور اس سے نواز لیگ کو کوئی فائدہ نہ تھا اور نواز لیگ کو پتا ہے کہ اس ناکامی کے بعد مولانا فضل الرحمان کے موقف کو تائید ملے گی کہ استعفوں اور لانگ مارچ کے علاوہ ساری کوششیں بیکار ہیں اور بلکل یے ئی ہوا اب بلاول بھٹو اس آگ پر پانی ڈالنے کے لیئے سرگرم ہے تخت سندہ کو نا کھویا جائے سندھ میں ان کی بادشاہی لگی ہوئی ہے پ  پ کبھی نہیں چائے گی کہ ان کو کھویا جے اور  ن لیگ اور مولانا کے پاس تو کھونے کو کچھ نہیں ہے اب ایک طرف کورونا کے دوسرے وار نے گھیر لیا ہے تو دوسری طرف نیب بھی دوبارہ متحرک ہو گئی ہے اور بلاوے آنا شروع ہو گئے ہیں اور دوسری طرف ن لیگ کے پاکستان میں موجود بڑے غیر متحرک اور اچھے بچے بنے ہوے ہیں مریم کی گولاباری روکنے کے لیئے نیب کو متحرک کردیا گیا ہے اس میں اپوزیشن کا لانگ مارچ کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے اس کا پتا بھی کچھ دنوں میں چل جائیگا پ پ  اپنے آپ کو  زندہ رکھنے کے لیئے کبھی تخت سندھ کو نہیں چھوڑے گی اور اسی طرح عمران خان بے فکر ہو کر اپنے 5 سال نکال سکتا ہے اور پی ٹی آئی کے پاس اب بھی وقت ہے کچھ کیا تو، کیوں کہ اس وقت تک لیٹروں کے بیچ میں کھڑا ہے  وزیراعظم چپڑاسیوں کی سب اچھا ہے کی رپورٹ سن کر بی فکر ہے اور مھنگائی ملک کے 70 سال کے رکارڈ توڑ چکی ہے غریب تباھ ہوگیا ہے آٹا تک کھانے کو نہیں اور باقی 2 سال بھی ایسے رہے تو پی ڈی ایم نہیں عوام کا ردعمل خوفناک ہوگا جو جمھوریت سے لیکر سب کے بستر لپیٹ دیگا، اس وقت تک تو عمران خان کی حکومت تمام  حکومتوں سے ناکام تر حکومت رہی ہے اور صرف احتساب سے شروع ہوکر ناکام احتساب تک رک گئی ہے اور  چور سکون سے پیسے بنا رہے ہیں کبھی پیٹرول سے کبھی آٹے، کبھی ادویات سے تو کبھی گئس بحران سے اب دیکھنا یے ہے  کہ   عمران خان باقی 2 سال میں ڈلیور کر پائے گا یا نہیں

کالم کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لیئے  میل کریں–

shafimohammad002@gmail.com

Follow news10.pk on Twitter and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے