یوم مزدور؛ محنت کش آج بھی استحصال کا شکار

306 Views

کالم نگار: ظھیر بنگلانی

دنیا بھر میں مختلف تاریخوں کو الگ الگ چیزوں سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ کسی تاریخ کو آرفنز ڈے، کسی کو بچوں کا دن یعنی چلڈرین ڈے وغیرہ وغیرہ۔ اور آج کی تاریخ کو یعنی یکم مئی کو کئی ممالک میں مزدوروں سے منسوب کیا جاتا ہ ۔ اسے یوم مزدور بھی کہا جاتا ہے اور لیبر ڈے بھی کہا جاتا ہے ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تاریخ کو ہم یوم مزدور کے طور پر ہر سال کیوں یاد کرتے ہیں اور آج کے دن ایسا کیا ہوا تھا کہ ہم نے اس کو مزدوروں سے منسوب کیا ہوا ہے؟

انیسویں صدی کے نصف میں روس میں مزدوروں سے روزانہ انیس بیس گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔او ر معاوضہ اتنا بھی نہیں دیا جاتا تھا کہ وہ اور ان کے بیوی بچے دو وقت پیٹ بھر کے اچھا کھانا کھا سکیں۔وہ ہاتھ جو فصلیں اگاتے تھے ان کے بچے اچھے کھانے کو ترستے تھے۔وہ ہاتھ جو کھڈیوں اور فیکٹریوں میں ہزاروں اور لاکھوں گز کپڑابنتے ان کی عورتیں جسم چھپانے کو ترستی۔فیکٹری کے کسی حصہ میں آگ بھڑک اٹھتی تو کئی مزدور جل کر راکھ ہو جاتے سرمایہ دار یہ کہتے ہوئے نظر انداز کر دیتا کہ کام کے دوران حادثات ہو سکتے ہیں۔مزدوری کرتے وقت مر کھپ جانا ہی کام کا حصہ ہے۔انہیں مزدوروں کی وجہ سے خام مال تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل ہو رہا تھا۔سرمایہ دار اپنی عیاریوں سے غریب کا خون چوس رہے تھے۔اوقات کار کا کوئی تعین نہ تھا۔امریکہ میں بھی مزدور سولہ سولہ گھنٹے کام کرتا تھا۔امریکہ اور روس کی متمدن تہذیب کا یہ حال تھا کہ وہاں ہل چلانے والے بیل کی طرح مزدور کو مشین چلانے والا ترقی یافتہ جانور سمجھا جاتا تھا۔فیکٹریوں میں کام کرنے والے غلام سمجھے جاتے تھے۔جب مزدور پر ظلم حد سے تجاوز کر گیا تو پھر 1884میں سب سے پہلی آواز نیو یارک میں اٹھائی گئی لیکن باقاعدہ تحریک چلانے کا سہرا امریکہ کے مزدوروں کو جاتا ہے۔شگاگو کی ہائی مارکیٹ سکوائر پرمزدوروں کو گولیوں ماری گئی جس میں کئی مزدورہلاک ہو گئے مگر ان کا خون رائے گاں نہیں گیا۔ 1890سے باقاعدہ یوم مزدور منانے کا سلسلہ شروع ہو ا جو آگے چل کر بین الاقوامی احتجاج کا دن ہو گیا۔اور یکم مئی کویو م مزدورکے طور پر منا یا جانے لگا۔آج اگر ہم 8,8گھنٹے کام کر رہے ہیں تو شگاگو کے ان عظیم مزدوروں کی بدولت ہے


جہاں تک ترقی یافتہ ممالک کی بات ہے وہاں یقینا مزدوروں کےلیے بنیادی سہولتوں میں کافی آسانیاں ہویں ہیں، مزدوروں کو جو بنیادی اجرت دی جاتی ہے اُس سے اُنکا اور اُنکے بچوں کا گذارا آرام سے ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اس دن کو متعارف کرانے کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کو جاتاہے، بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا دلکش نعرہ لگاکر پورے پاکستان کے مزدوروں کو اپنے ساتھ ملالیا، لیکن افسوس بھٹو صاحب مزدوروں کی حالت تو کیا بدلتے اُنکے دور میں صنعتوں، بنکوں، لائیف انشورنس اور دوسرے زرایع پیداوار حکومتی تحویل میں لینے سے مزدوروں کو نقصان ہی پہنچا۔ بعد میں دو مرتبہ اُنکی بیٹی بینظیر بھٹو اورایک مرتبہ اُنکے داماد آصف علی زرداری بھی روٹی، کپڑا اور مکان کا دلکش نعرہ لگاکر برسراقتدار رہے، مگر مزدوروں کی حالت بدسے بدتر ہوتی چلی گی۔ بھٹو کے بعد ضیاءالحق سے آج نیا پاکستان کا نعرا لگانے والے عمران خان تک ہرحکومت یکم مئی ضرور مناتی ہے، اور اُس دن وزیراعظم یا صدر سے لیکر محلے کے لیڈر تک ہر ایک اپنے مزدور بھائی کی پریشانیوں کے غم ڈوبا ہوا ہوتا ہے، حکومتی سطع پر بہت سارئے وعدئے کیے جاتے ہیں لیکن دوسرے دن مزدوروں کی حالت وہی بدتر ہوتی ہے۔

میری نظر میں ہر ملازمت پیشہ محنتی انسان مزدور ہے مگر حقوق کے معاملے میں وہ خالی کشکول ہے اور اب جبکہ لاک ڈاؤن کی سنگین صورتحال جسکا سامنا پوری دنیا کو یے اسی میں پاکستان بھی شامل ہے مگر پاکستان کی صورتحال دیگر ممالک کے برعکس پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہونے کے باعث ہر خاص و عام کو پریشانی کا سامنا یے ۔روز کی بنیاد پر دھاڑی لگا کر کمانے والا مزدور فاقہ کشی پر مجبور یے۔ سڑکوں پر بیلچا اٹھا کر بھیک مانگنے والا مافیا مزدور طبقے کا حق کھا رہا یے اور اس مسئلے کا حل نکلنے کا نام نہیں یے۔اسی طرح معمولی ملازمت پیشہ افراد بھی مفسلی کا شکار ہیں۔

حکمران وقت سے درخواست ہے کہ مزدوروں کے مسائل کا بہتر حل نکالنے کی کوشش کریں جس سے اس ملک کی معیشت کا پہیہ چلے اور پاکستان ترقی کرے ۔ یوم مزدور ضرور منایا جائے مگر مزدوروں کو انکے حقوق دے کر ۔
کالم کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لیئے کالم نگار کے لیئے ایمیل کریں۔
Ahmedzaheer913@Gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے