سلطنت عثمانیہ کے قیام تک اسلامی دنیا میں مشہور ترین حج شاہراہ

168 Views

اسلامی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے حج مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے تب سے حاجیوں کے قافلے مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ آ رہے ہیں۔

ماضی قدیم میں حج شاہراہیں تعمیر کی گئیں ان کے اطراف کاروباری مراکز قائم ہوئے۔ حج شاہراہیں ایک عرصے تک مختلف اقوام و ممالک کی ثقافتوں اور تجربوں کے تبادلےاور منتقلی کا ذریعہ بنی رہیں۔

تاریخ کی کتابوں میں 7 بڑی حج شاہراہوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ اسلامی ریاست کے مختلف حصوں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک بنائی گئی تھیں۔

درب زبیدہ (درب الحاج العراقی)

حج شاہراہوں میں سب سے زیادہ مشہور الکوفہ، مکہ مکرمہ شاہراہ ہے۔ یہ اسلامی تاریخ میں سب سے اہم حج و تجارتی شاہراہ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اسے درب زبیدہ کے نام سے شہرت ملی۔ اسے عراقی حج شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی میں اس کا نام درب الحاج العراقی ہے۔ عراقی حج شاہراہ ’درب الحاج العراقی‘ اور’درب زبیدہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔

اسلام کی آمد سے قبل ”الہیرہ، مکہ مکرمہ“ سڑک کے نام سے جانی جاتی تھی۔ الہیرہ نامی مقام موجودہ الکوفہ سے تین میل دور تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد کوفہ، ھیرہ کی جگہ آباد ہوگیا۔ کوفہ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا راستہ بڑا اہم ہو گیا۔

’درب زبیدہ‘ جزیرہ عرب کی مشہور ترین شاہراہ اور اسلام کی آمد سے پہلے سے ہے۔ یہ سعودی عرب میں 1400 کلو میٹر سے کہیں زیادہ طویل علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے پانچ علاقوں (حدود شمالیہ، حائل، القصیم، المدینہ المنورہ اور مکہ مکرمہ سے گزرتی ہے۔

یہ سلطنت عثمانیہ کے قیام تک اسلامی دنیا میں مشہور ترین حج شاہراہ مانی جاتی رہی ہے۔

عالم اسلام میں رونما ہونے والی ثقافتی اور تمدنی تبدیلیوں کی شاہد ہے۔

’درب زبیدہ‘ پر حج ، عمرہ، زیارت اور تجارت کے لیے سفر کرنے والوں کی سہولت کی خاطر بہت سارے نتظامات کیے گئے تھے۔ ان میں سے متعدد سفری اداروں کے نقوش آج بھی موجود ہیں۔

عالم اسلام میں رونما ہونے والی ثقافتی اور تمدنی تبدیلیوں کی عینی شاہد ہے۔ (فوٹو: مجلہ سواح)

سعودی محکمہ سیاحت وقومی ورثہ ’درب زبیدہ‘ کو یونسکو میں سعودی عرب کے اہم ترین تاریخی مقام کی حیثیت سے عالمی روثے کی فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کررہا ہے۔

’درب زبیدہ‘عباسی خلیفہ ،ہارون الرشید کی ملکہ  زبیدہ بنت جعفر سے منسوب ہے جنہوں نے کوفہ سے مکہ تک جانے والی اس شاہراہ پر فلاحی خدمات کا انتظام کیا تھا اور بہت  سے مسافر خانے تعمیر کرائے تھے۔

پہلے عباسی خلیفہ نے 134ھ میں شاہراہ کی علامتیں بنوائیں۔ 14ویں صدی ہجری کے نصف ثانی میں سفری وسائل کی تبدیلی کے باعث اس سڑک کی اہمیت ختم ہوگئی۔

عباسی ریاست کے قیام کے 2 برس بعد اس شاہراہ پر کام شروع ہوا تھا۔ ابو العباس السفاح نے میلوں کی علامتیں لگوائیں۔مینارے تعمیر کرائے،حاجیوں کی آسانی کےلیے آگ روشن کی جاتی تھی۔

مہدی نے 161ھ میں شاہراہ پر بہت کام کرایا۔ مہدی کے لیے عراق سے مکہ مکرمہ،برف پہنچایا جاتا تھا۔ مامون نے اس شاہراہ پر شجر کاری کرائی۔

المقتدر العباسی اور عضدالدولہ نے بھی اس شاہراہ کی خدمت کی۔ بویہی اور سلجوقی بھی حج شاہراہ کے خدام شمار کئے جاتے ہیں۔ عباسی خلفا نے حج شاہراہ کے منتظمین مقرر کئے۔ کوفہ مکہ مکرمہ حج شاہراہ 1300کلومیٹر لمبی تھی۔ اس شاہراہ کی دسیوں منزلیں تھیں ۔اِن میں القاع،زبالہ،الشقوق، الربزہ اور بستان بن عمر قابل ذکر ہیں۔

 اسلامی تاریخ میں سب سے اہم حج و تجارتی شاہراہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ (فوٹو مجلہ سواح)

عباسی خلیفہ بغداد سے مکہ مکرمہ کےلیے حج قافلے بھیجا کرتے تھے۔ انہوں نے عراقی محمل (خانہ کعبہ کے لیے تحائف لانے والے اونٹ کو محمل کہا جاتا تھا) کا رواج قائم کیا۔ عباسی خلافت کے پہلے دور میں عراقی محمل سے زیادہ شاندار محمل کہیں کا نہ ہوتا تھا۔ اونٹ کو ریشم سے سجایا جاتا تھا۔ سونے اور موتی سے آراستہ کیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ کی سجاوٹ پر ڈھائی لاکھ دینار خرچ ہوتے تھے۔

شامی حج شاہراہ کے قیام نے ’درب زبیدہ‘ کی قدر ومنزلت کم کر دی تھی۔

’درب زبیدہ‘ اسلام سے قبل تجارتی شاہراہ ہواکرتی تھی۔ اسلام کی آمد پر خلافت راشدہ اور خلافت امویہ میں اس کی اہمیت بڑھنا شروع ہوئی۔ عباسی خلافت کے عہد اول میں ‘ نقطہ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ عباسی خلافت کے زمانے میں اس پر مسافر خانے اور آرام گھر کثیر تعداد میں بنائے گئے۔ ’درب زبیدہ‘ پر سٹیشن قائم کئے گئے، کنویں ،تالاب،ڈیمز،محل،گھر ،حویلیاں اور طرح طرح کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔

حج قافلوں کی حفاظت کے لیے عراق سے مکہ تک قلعے تعمیر کیے گئے، چھاونیاں بنائی گئیں ۔’درب زبیدہ‘ کا نقشہ منفرد سائنٹیفک فن تعمیر کا شاہکار تھا۔

جہاں جہاں شاہراہ کے راستے میں ریتیلی زمین پڑتی تھی وہاں اس کی استرکاری میں پتھر استعمال کئے گئے۔ شاہراہ پر علامتیں نصب کی گئیں۔ مسافروں کی رہنمائی کے لیے الاؤ جلائے جاتے تھے۔

 ’درب زبیدہ‘ کو یونسکو میں عالمی روثے کی فہرست میں شامل کرانے کی کوشش ہے۔ (مجلہ روج)

’درب زبیدہ‘ کا ذکر مسلم سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔

فن لینڈ کے سیاح جارج نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ لیڈی آن بلنت نے اپنی تصنیف ’نجد کاسفر‘میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے