سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کراچی کی سیاست میں واپسی کیلئے پر تولنے لگے

70 Views

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کراچی کی سیاست میں واپسی کیلئے پر تولنے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر کی مقتدر سیاسی حلقوں کے ڈاکٹر عشرت العباد سے شہر کی سیاست میں واپسی کیلئے رابطے ہوئے ہیں۔

 سندھ میں طویل عرصے تک گورنر کے عہدے پر براجمان رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ 2018 کے انتخابات کے موقع پر اہم شخصیات انھیں سیاست میں فعال دیکھنا چاہتی تھیں۔

تاہم ڈاکٹر عشرت العباد نے سیاست میں واپسی کیلئے کی گئی پیشکش اور یقین دہانی کے حوالے سے گفتگو کرنے سے گریز کیا۔

ڈاکٹر عشرت العباد کا کہنا ہے کہ 2013 میں مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کے بعد کراچی آپریشن کو اسلام آباد سے مکمل حمایت ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف سے کہا تھا کہ آپ صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔

 ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ میرے دلائل سے قائل ہوکر گرین لائن، ایم 9 موٹروے اور ملیر ایکسپریس کی منظوری دی گئی اور کام شروع ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ گورنری چھوڑ کر لندن میں گھر ہونے کے باوجود ذہنی سکون کی خاطر دبئی میں رہنے کو ترجیح دی۔

ڈاکٹر عشرت العباد کا مزید کہنا تھا کہ کراچی اور سندھ کے شہروں کیلئے بہت کچھ حاصل کرنے والی پارٹی نے خود کو تباہی کی طرف دھکیل دیا جبکہ متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والی جماعت کو چند انتہا پسند خیالات والوں نے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور اس لیے  قومی اثاثہ سمجھی جانے والی جماعت پالیسی سازوں کی نظر میں بوجھ بن گئی۔

ڈاکٹر عشرت العباد کا کراچی آپریشن سے متعلق اہم انکشاف

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا ہے کہ 2013 میں ن لیگ کے دور اقتدار میں کراچی آپریشن کو اسلام آباد سے مکمل حمایت ملی۔

لندن میں جیو نیوز کے ساتھ نشست میں ڈاکٹر عشرت العباد نے کئی بڑے انکشافات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں ن لیگ کے دور اقتدار میں کراچی آپریشن کو اسلام آباد سے مکمل حمایت ملی۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ میں نے نواز شریف سے کہا تھا کہ آپ صرف پنجاب کے نہیں پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میرے دلائل سن کر نواز شریف قائل ہوئے اور انہوں نے گرین لائن، ایم 9 موٹر وے اور ملیر ایکسپریس کی منظوری دی۔

ڈاکٹر عشرت العباد نے بتایا کہ لندن میں گھر ہونے کے باوجود ذہنی سکون کی خاطر دبئی میں رہنے کو ترجیح دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت کچھ حاصل کرنے والی پارٹی نے خود کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔

سابق گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کو چند انتہا پسند خیالات والوں نے تقسیم کردیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی اثاثہ سمجھی جانے والی جماعت پالیسی سازوں کی نظر میں بوجھ بن گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے