وزیر اعلیٰ سندھ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب

53 Views

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب کر لیا، ریمارکس میں کہا کہ ہم یہاں مسائل سننے نہیں آئے، حل بتائیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل بینچ تجاوزات کے خاتمے، سرکلر ریلوے، اورنگی اور گجرنالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جبکہ نسلہ ٹاور سے متعلق بھی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس چیف جسٹس نے کہا کہ وہ حیدرآباد سے ہو کر آئے ہیں، دُھول مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، یہ صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ کا معاملہ ہے، بہتری نظر نہیں آتی۔

عدالت میں صوبائی حکومت کی جانب سےگجر نالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ عدالت کا مذاق اڑا رہے ہیں ؟ کیا رپورٹ پیش کی ہے آپ نے ؟ اب تک کیا ہوا ہے؟ زمینی حقائق کیا ہیں یہ بتائیں ؟

چیف جسٹس پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی طلب کرلیا ، ریمارکس میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ وضاحت نہیں دے سکتے، بیٹھ جائیں، وزیراعلیٰ سندھ کو بلا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ پارکوں ،کھیل کے میدانوں پر قبضہ ہوچکا ہے، سڑکوں پر سائن نہیں ہیں، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ ٹوٹا ہوا ہے، آپ بتائیں کیا پلان ہے آپ کا؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپکے ماتحت اداروں میں کیا ہو رہا ہے؟ ماسٹر پلان مانگ رہےہیں وہ نہیں مل رہا، وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ انتظامی مسائل ہیں، کےڈی اے با اختیار ادارہ ہے،قانون موجود ہے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب یہ صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ کا معاملہ ہے، میں کل حیدر آباد سے ہو کر آیا ہوں دھول مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ابھی ہم انڈونیشیا گئے تھے کراچی سے بڑا ہونے کے باوجود سرسبز تھا۔

چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں کیا پلان ہے آپ کا؟ ہماری سڑکیں دیکھیں کہیں سائن وغیرہ کچھ نہیں ہے،کچھ دن پہلے میں گلستان جوہر یونیورسٹی روڈ سے آیا سارے روڈ ٹوٹے ہوئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی ریمارکس دیئے کہ آپکے ماتحت اداروں میں کیا ہو رہا ہے ماسٹر پلان مانگ رہےہیں وہ نہیں مل رہا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نالہ متاثرین کو متبادلہ جگہ دینے کا کہا تھا، سندھ حکومت نے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں، اتنے سارے کاموں کے لئے پیسے ہیں متاثرین کے لئے نہیں؟

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں عدالت کا شکر گزار ہوں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں، میں بتانا چاہتا ہوں 6 سال سے وزیر اعلیٰ ہوں،میں اس شہر میں ہی پیدا ہوا ہوں،ہم نے جو روڈ بنائے انکی فٹ پاتھ پر دکانیں الاٹ کردی گئی تھیں،ہمیں تجاوزات کے لئے ویسے ہی کام کرنا چاہیے، اس سال کچھ بہتری ہوئی ہے بارشوں میں بھی دیکھا ہوگا، انتظامی مسائل ہیں، مجھے ٹائم دیں میں عدالت کو بتانا چاہتا ہوں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں شارع فیصل بنایا ہے یونیورسٹی روڈ بنایا ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ادارے ہونے چاہییں جو اس شہر کو چلا سکیں،ادارے ہوں جو اس شہر کو دیکھ سکیں، کے ڈی اے، کے ایم سی وغیرہ،حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کام کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کےڈی اے کا ڈی جی آیا کہ میں نےحکم امتناع لیا ہوا ہے تب ہی عہدے پر ہوں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ادارے با اختیار ہیں، قانون موجود ہے،چیف جسٹس نے ا س پر کہا کہ ویل، بہتری نظر نہیں آتی،جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ تھوڑا غلط ہوگا سر، انتظامی طور پر مسائل کا سامنا ہے ہمارے پاس آفیسرز نہیں ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال تاریخی بارش ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی، نالہ متاثرین کی بحالی کا کام ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر کیا ہے، متاثرین کی بحالی کے لئے 36ارب روپے کی رقم درکار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تیس چالیس سال سے سندھ حکومت نے کسی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان نہیں کیا، مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس سال کچھ بہتر ریونیو آ رہا ہے وفاق سے گزشتہ مالی سال میں کم پیسےملے ، ہمیں پتہ ہے لوگوں کے کیا مسائل ہیں لوگوں کو مہنگائی کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ابھی وہ پیسے آئے نہیں ہیں آپ پیسے مانگ رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت آٹھ ارب ایک دن میں جنریٹ کرسکتی ہے، مراد علی شاہ نے کہا کہ دس ارب روپے کی ضرورت ہے کابینہ نے ایک ارب کی فوری منظوری دی ہے۔

چیف جسٹس نے مراد علی شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مسائل سننے نہیں آئے حل بتائیں، گراونڈ پر کچھ ہے تو بتائیں،وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پی سی ون بنا لیا ہے، عدالت جیسے حکم دے گی ہم عمل درآمد کریں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں پلان دیں کرنے کیا جارہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں کوئی رپورٹ نہیں دی گئی، مراد علی شاہ نے کہا کہ دس ارب صوبے کے لئے کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپکے پیچھے وزیر بلدیات کھڑے ہیں انہیں بلا کر پوچھ سکتے ہیں،مگر ان کے پاس کچھ ہے نہیں بتانے کو سوائے ٹی وی پر بیان دینے کے،وہ اختیارات پتہ نہیں آپ کے پاس بھی ہیں یا نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بہت افسوس کی بات ہے متاثرین کی بحالی کے ہمارے پاس فنڈ نہیں ، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں مگر آپ شرائط عائد نہیں کرسکتے،ہم پورے ملک کی سپریم کورٹ ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جنھیں جرائم پیشہ لوگوں نے وہاں بٹھایا،ان لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جوان بچیاں ہیں آپ وزیر اعلیٰ ہیں آپ سکون کی نیند کیسے سو سکتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے جواب دیا کہ ہم کریں گے دس ارب کوئی مسئلہ نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کا بیان ریکارڈ کریں گے کہ متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے،کوئی اگر مگر نہیں بس بحالی کا کام کریں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن تین ماہ سے غیر فعال ہے،سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ اس کیس کا نمبر دے دیں دفتر میں ہم لگوا دیتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بہت ساری چیزیں ہیں جو اوپن کورٹ میں نہیں کہہ سکتا، چیف جسٹس پاکستان نے اس پر کہا کہ پھر کبھی موقع ملا تو سنیں گے،ہم سب کچھ قانون کے مطابق ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہاں لوگوں نے سڑکوں پر قبضہ کرلیا ہے انتظامیہ کہاں ہے ؟کیا یہ گورنمنٹ آف لاء ہے؟ہم عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل ہے آپ دیکھ لیں آپ کچھ نہیں کر رہے،آپ وفاقی حکومت وفاقی حکومت کہہ رہےہیں وہ آکربیٹھ جائے گی تو آپ کہاں جائیں گے، مراد علی شاہ بولے کہ میں وہ بات کرنا نہیں چاہتا، سیاسی بات ہوجائے گی۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ، وزیراعلیٰ سندھ کہہ رہے ہیں کہ وفاق تعاون نہیں کر رہا،آپ وفاقی حکومت سے ہدایت لے کر بتائیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ جو افسران انہیں چاہئیں ان کو دیں،چیف جسٹس پاکستان بولے کہ ایسا لگ رہا ہے وفاقی حکومت بھی مفلوج ہے، بڑی تقریریں کرتے تھے گراس روٹ لیول کی حکومت کی،گراس روٹ لیول کی حکومت کہاں ہے؟ کوئی بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے مراد علی شاہ سے کہا کہ ڈی جی کے ڈی اے تین ماہ پہلے آیا تھا تبادلہ کردیا ہے کیا کام کرے گا وہ؟ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر آپکے پیچھے کھڑے ہیں ان سے پوچھ لیں،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں دیکھ لیتا ہوں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اور بھی کئی افسران ہیں جن کےایک ایک دو دو ماہ میں تبادلے کر دئیے جاتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈی جی کے ڈی اے کے پاس دو چارج ہیں،وزیر تعلیم مکمل فعال سیکریٹری تعلیم چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری بھی پرابلمز حل کریں لوگوں کی پرابلم حل کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جتنی بھی سوک ایجنسیز ہیں سب غیر فعال ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جی بالکل ہمیں لوگوں نے منتخب کیا ہے،سماعت مکمل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہوگئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے