کون چونا لگا گیا

99 Views

کون چونا لگا گیا

۔۔۔محمد امانت اللہ ۔ جدہ

قومی اسمبلی میں ستر کے قریب بل پاس ہو گئے ۔ آخر یہ سب کیسے ہوا کل تک جو حکومت گھر واپس جانے والی تھی یکدم کیسے پانسہ پلٹ گیا
اور اسمبلی میں اکثریت ثابت کر دی

آصف زرداری کی سیاسی حکومت نے پانچ سال پورے کیے ، آصف زرداری نے سیاست میں پی ایچ ڈی اس وقت مکمل کر لی تھی انہوں نے جنرل راحیل شریف کو للکارہ تھا۔ ایک جلسے میں کہا تھا اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔
اسکے فوراً بعد انہیں سمجھ آگئی سیاست اور لوٹ مار کرنی ھے تو مفاہمت کی پالیسی پر عمل ہونا
ہوگا۔
آصف زرداری کا کیس عدالتوں میں جس سست روی سے چل رہا ھے اس بات کی نشاندہی کرتی ھے ، کہ انکے ساتھ ڈھیل یا پھر مفاہمت ہو گئی ھے۔
خان صاحب نے انکو مجبور کر دیا تھا کہ مفاہمت کے راستے پر آجائیں
پانچ ماہ قبل حکومت نے اشارہ دیا تھا سندھ میں گورنر راج لگانے جارہی ھے میڈیا میں ایک شور مچا ہوا تھا اور گورنر کا نام بھی تجویز ہو چکا تھا۔
یکدم پیپلزپارٹی نے حکومت کے خلاف بولنا بند کر دیا اور پی ڈی ایم کو بھی غیر فعال بنا دیا۔
حکومت سمجھ گئی زرداری صاحب مفاہمت کے راستے پر گامزن ہو گئے ہیں ۔
زرداری صاحب، میاں برادران اور مولانا فضل الرحمن کو اچھی طرح استعمال کرتے رہے اور کسی کو شک تک نہ ہونے دیا کہ مفاہمت کی گاڑی میں سوار ہو چکے ہیں۔

معذرت کے ساتھ ہندوستان کی دو سو سال کی تاریخ گواہ ھے پنجاب پر سب نے حکومت کی ھے، پنجاب ماؤں نے فوجی تو پیدا کیے ہیں مگر سیاستدان پیدا نہیں کیے۔
میاں برادران کے بارے میں جنرل مشرف نے تاریخی جملہ کہا تھا سر پر نقلی بال لگوانے سے عقل پھر بھی نہیں آئے گی۔
میاں برادران ایک مافیا ہیں انہوں نے ملک میں بلیک میلنگ اور ویڈیو کیسٹ کی بناد پر سیاست کی ھے
آخر وقت تک وہ یہی سمجھتے رہے زرداری صاحب انکے ساتھ ہیں اور خان صاحب کی حکومت آج گئی یا پھر کل ، چند دنوں کے لیے میاں صاحب اور مریم نے اداروں کے خلاف بیان دینا اس لیے بند کیا تھا کہ شہباز شریف گیٹ نمبر چار میں جاکر یقین دہانی کرا رہے تھے ہم آپکے ساتھ ہیں۔
انہی دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف میاں صاحب نے مہم جوئی صرف اس لیے شروع کی اگر برطانیہ میں انکو رہنے کی اجازت نہیں ملی تو بڑے دھوم دھام سے پاکستان واپس آجائیں گے۔
سارا ڈرامہ بری طرح فلاپ ہو گیا۔

جنرل مشرف کی بات یاد آگئی انکے پاس سب کچھ ھے مگر عقل نہیں۔
قومی اسمبلی کے جوائنٹ سیشن سے ایک دن قبل شہباز شریف کا خاص بندہ گرفتار ہوتا ھے، جو منی لانڈرنگ ماسٹر مائنڈ تھا۔
دوسرے دن اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتا ھے ن لیگ اور فضل الرحمن سمجھ رہے تھے زرداری صاحب انکے ساتھ ہیں ۔ جب گنتی شروع ہوئی تو پیپلزپارٹی کے چھ ارکان ایک منصوبہ کے تحت غائب تھے جس میں انکے کور کمیٹی کے تین ارکان جس میں سرے فہرست نوید قمر تھے۔
حکومت نے سادہ اکثریت سے تمام بل پاس کروا لیے، اجلاس کے دوران اسپیکر صادق سنجرانی نے دو بار بلاول بھٹو نے کہا آپ کہیں آپ۔
انہوں نے وہی کہا جو زرداری صاحب نے کہا تھا ہلکی پھلکی تنقید ، ن لیگ حیران تھی حکومت کی اکثریت کیسے ہو گئی جبکہ اپوزیشن کی تعداد میں زیادہ ھے۔
انہوں نے اپنا غصہ ہنگامہ آرائی کر کے نکالا اور زرداری صاحب مفاہمت کی گاڑی چلا کر اسمبلی میں پہنچ چکے تھے۔
انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا جس سے عمران خان کی حکومت یا اداروں کو برا لگا ہو۔
پورے کھیل میں زرداری صاحب اتنا چاہتے ہیں جو بھی لوٹ مار کی اسکو آسانی سے ہضم کرنے دیا جائے اور صوبہ سندھ میں انکی حکومت قائم رہے۔

ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن یہ جاننے کی کوششوں میں مصروف ہیں انکو کون چونا لگا گیا ھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے