کراچی: سندھ بار کونسل کے سیکرٹری قاتلانہ حملے میں جاں بحق

53 Views

کراچی کے علاقے گلستان جوہر  میں سیکرٹری سندھ بار کونسل عرفان علی مہر قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق عرفان مہر کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ گلستان جوہر بلاک 13 میں پیش آیا، عرفان علی مہر کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے عرفان پر پے در پے کئی گولیاں ماریں اور فرار ہو گئے جبکہ وکیل رہنما نعیم قریشی ایڈووکیٹ کے مطابق 45 سالہ عرفان مہر گلستان جوہر کے رہائشی تھے اور اپنی بچی کو کار میں اسکول چھوڑنے کے لیے بلاک 13 میں پہنچے تو واپسی پر موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے انہیں کار میں ہی نشانہ بنایا۔

جائے وقوعہ سے 30بورپستول کے 3 خول ملے:  ایس ایس پی ایسٹ

 ایس ایس پی ایسٹ قمر رضا جسکانی کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے وقت گاڑی میں عرفان علی مہرکے ہمراہ ان کا بھتیجا بھی تھاجو محفوظ رہا، عرفان مہر کو 3 گولیاں لگیں، پولیس کو جائے وقوعہ سے 30بورپستول کے 3 خول ملے ہیں۔

گلستان جوہر میں فائرنگ سے وکیل کی ہلاکت کے واقعے کی سی سی ٹی وی بھی پولیس کو موصول ہو گئی ہے، ویڈیو میں ملزمان کو ہیلمٹ پہنے دیکھا جا سکتا ہے اور ملزم کو گاڑی پر فائرنگ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کا ہڑتال کا اعلان

کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور جنرل سیکریٹری کراچی بارایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے مطالبہ کیا ہے کہ عرفان علی مہرکےقاتل کوگرفتار کرکے سزادی جائے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن نے عرفان علی مہر کے قتل پر آج عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے سیکرٹری سندھ بار کونسل عرفان علی مہر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔

سیکرٹری سندھ بار کونسل عرفان علی مہر کو آج صبح اس وقت ٹارگٹ کیا گیا جب وہ اپنی بیٹی کو اسکول چھوڑنے کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی بھی سامنے آ چکی ہے جس میں موٹر سائیکل پر سوار ہیلمٹ پہنے دو افراد کو عرفان علی مہر کی گاڑی پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ قمر جسکانی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے 3 خول ملے ہیں۔

تاہم اب عرفان علی مہر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے اور پولیس سرجن جناح اسپتال ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق عرفان علی مہر کے جسم پر پانچ گولیاں لگیں، دو گولیاں سینے پر، دو چہرے پر اور ایک بازو میں لگی۔

ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا ہے کہ گولیاں چھوٹے ہتھیار سے اور قریب سے ماری گئیں، عرفان علی مہر کی وجہ موت سینے میں لگنے والی گولی ثابت ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے