اے ڈی خواجہ کا راجہ عمر خطاب کی خدمات کا اعتراف

89 Views

کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ ﷲ ڈینو خواجہ المعروف اے ڈی خواجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ سندھ کے افسر اور ماہر تفتیش کار راجہ عمر خطاب کی بے مثال اور جراتمندانہ خدمات کو سراہا ہے۔

اے ڈی خواجہ نے راجہ عمر خطاب کے نام ایک خصوصی خط میں ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا ہے۔

 اے ڈی خواجہ نے خاص تعریفی خط میں راجہ عمر خطاب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راجہ عمر خطاب کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ میں انتہائی پیشہ ورانہ کام کر رہے ہیں، اس کیلئے ان کی بھرپور تعریف کرنا چاہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ بہت کم افسران ایسے ہیں جنہوں نے پوری لگن کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کی۔

اے ڈی خواجہ کا راجہ عمر خطاب کی خدمات کا اعتراف

سابق آئی جی سندھ نے اعتراف کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں راجہ عمر خطاب نے جرات، خلوص اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت سے خدمات سرانجام دیں۔ ایک انتہائی اہم موڑ کے دوران اپنے خاندان اور آزادی کو داؤ پر لگا کر قوم اور سندھ پولیس کی خدمت کی، اس قوم اور ریاست کے دشمن کے ساتھ رہنے اور لڑنے کا انتخاب کیا جبکہ ان کے بیشتر لوگ اس جدوجہد سے کنارہ کش ہوئے۔

اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ سندھ پولیس کو راجہ عمر خطاب کی پیشہ ورانہ کامیابیوں پر ہمیشہ فخر رہے گا، میں آپ کے خاندان کے افراد کو ایک بہادر پولیس افسر کی حمایت کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں گا کہ وہ تمام اعزازات کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو سال سے زائد عرصے تک ان کی انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے طور پر تعیناتی کے دوران راجہ عمر خطاب نے فرد واحد کے طور پر بہت سے اہم اہداف حاصل کئے۔ 

اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے راجہ عمر جیسے کمانڈنگ افسران پر فخر ہے جو انتہائی پرعزم، وفاداری، لگن اور سندھ پولیس کی طرف سے بھرپور تعاون کرتے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ آپ جیسے دلیر اور بہادر پولیس افسران کی موجودگی میں اس ملک کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔