پینل دی انجینئر پاکستان 2021 میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے الیکشن میں ہارے ھوئے لوگ ہیں

171 Views

تمام انجینئرز اور انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ کو مطلع کیا جاتا ہے
پینل دی انجینئر پاکستان 2021 میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے الیکشن میں ہارے ھوئے لوگ ہیں۔ پورے پاکستان سے ان کے پینل میں سے کوئی ایک میمبر بھی PEC کے الیکشن میں منتخب نہیں ھو سکا۔ ہارے ھوئے لوگوں کا یہی حال ھوتا ہے۔ سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن طارق بنوری اور سابق چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل اب تھے ھو گئے ہیں۔ یہ چلے ھوئے کارتوس ہیں ۔ انکا رویہ دھمکی آمیز ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی اور منسٹری آف ایجوکیشن اور منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ان کے انڈر میں ہیں ۔ انھوں نے ریاست کے اندر ریاست بنا رکھی ہے ۔ سابق چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم قریشی کا کردار کوپیک جیسا ہے ۔ انکا ایک ایجنٹ کوپیک جو پاکستان انجینئرنگ کونسل کا میمبر ہے اسے انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی کونسل نیشنل ٹیکنالوجی کونسل کا چیئرمین بنا رکھا ہے۔ PEC کے قول اور فیل میں بہت فرق ہے۔ عدالت میں ہاں کرتے ہیں اور باہر آ کر اپنے لکھے ھوئے کمنٹس سے موکر جاتے ہیں۔
۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل عدالتوں، سروس ٹریبونل، منسٹری آف ایجوکیشن گورنمنٹ کے نوٹیفکیشن اور تقریباً 50 فیصلے بی ٹیک آونرز انجینئر کے حق میں آئے ہیں ان کو نہیں مانتے۔ صرف اپنے مطلب کے فیصلوں کو مانتے ہیں ۔
۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو نہیں مانتے۔ چور دروازوں سے HEC کا چیئرمین اپنے انجینئر طارق بنوری کو اور امتیاز گیلانی کو لگا کر اپنے مطلب کے نوٹیفکیشن نکلواتے ہیں ۔ اپنی کمونیٹی کو بلوا کر۔
۔ حمود الرحمٰن کمیشن 1966 کی رپورٹ کو نہیں مانتے۔
۔ منسٹری آف فیڈرل ایجوکیشن گورنمنٹ آف پاکستان کے 1973-1974 کے بی ٹیک آونرز انجینئرنگ ڈگری کی ایکویلینس کو نہیں مانتے جبکہ اس وقت PEC کا وجود بھی نہیں تھا۔
اپنی کونسل پاکستان انجینئرنگ کونسل کا نکلا ھوا لیٹر 1981 کو نہیں مانتے جس میں لکھا ہے بی ٹیک آونرز انجینئرنگ ڈگری برابر ہے BE ڈگری کے۔
۔ پانچ روکنی لارجر بینچ فیدا حسین کیس میں پی ایل ڈی 1995 SC 701 میں معافی مانگتے ہیں سپریم کورٹ میں کے ٹائپنگ میں غلطی ھو گئی ۔ کہ PEC. کی جگہ گورنمینٹ پڑھا جائے کہ B.Tech Hons degree Equivalent to BE Degree ۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ایکویلینس کو نہیں مانتے کے B.Tech Hons degree AT PAR B.E Degree year 1981.
. خود ہی NOC دی کہ بی ٹیک آونرز، بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کو NTC میمبر شپ دے گی ۔ اور ساتھ میں لکھ بھی دیا ۔ ٹیکنالوجسٹ، انجینئر اور سائنٹس کا کیا کام ہے۔ اب تو کونسل بھی بن گئی ڈگریوں کی ایکریڈیشن اور میمبر شپ بھی مل گئی ۔ ٹیکنالوجی کے حوالےسے اور ٹیکنیشن کے حوالے سے جو اختیار ان کے پاس تھا۔ وہ انھوں نے منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی اسٹینڈنگ کمیٹی و چیئرمین عبدل قادر خان زادہ قومی اسمبلی کے آڈر اور منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے معرفت HEC کو 2012 اور 2016 کو اختیار دے دیا۔ اسطرح HEC کے نوٹیفکیشن نکل جانے کے بعد NTC-P نیشنل ٹیکنالوجی کونسل پاکستان کا وجود عمل میں آ گیا ۔ جو اختیار PEC ایکٹ 2011 میں انکے پاس تھا۔ وہ سیل ڈیٹ یا پاور HEC / NTC-P کو دے دی۔ اب پاکستان انجینئرنگ کونسل صرف BE/ BS/ BSc Engineering کو صرف ریگولیٹ کر سکتی ہے نہ کہ بی ٹیک آونرز/ انجینئرنگ ٹیکنالوجی کو۔ 2016 سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ایکٹ 2011 کا بٹوارہ ھو چکا ہے ۔ اور یہ اختیار PEC نے خود HEC کو دئیے کہ آپ اب اسٹیبلش کر سکتے ہیں نیشنل ٹیکنالوجی کونسل پاکستان کو۔
نوٹ۔ یہ باتیں عدلیہ کو بھی نہیں معلوم، اور نا وکیلوں اور ہماری کمیونٹی میں بھی صرف دو فیصد لوگوں کو معلوم ھو گا ۔
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ 2013 میں ھوا۔ جس میں PEC نے اپنے کمنٹس داخل کئے وہ ۔ اپنے ایکٹ 2011 کی روشنی میں جمع کرواتے ہیں۔ کہ بی ٹیک آونرز انجینئرنگ ڈگری ایٹ پار پچلر آف انجینئرنگ ڈگری کے ۔ سروس،پروموشن ، بینیفٹ بی ای ڈگری کے۔

۔ابھی سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی سفارش پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ ڈگری کو ایٹ پار کر دیا 8-12-2021 کو تو پاکستان انجینئرنگ کونسل کی چینخے نکل گئی۔ اگر ان کے پاس ایکٹ ہے تو PEC والوں کو پریشان ھونے کی کیا ضرورت ہے۔ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔ PEC والے اس لیٹر کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ اور ہماری کمیونٹی والے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ایکویلینس کی بحال ھونے کو ۔
نوٹ ۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کو داخلے کے حوالے اوپن میرٹ کی بنیاد پر داخلے اب میلینگے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل نے اپیل کی تھی وہ اپیل ختم ھو گئی سپریم کورٹ نے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے حق میں فیصلہ دیا۔
اسکے علاوہ سب انجینئر کی پوسٹ پر بی ای انجینئر کو نوکری مل جاتی تھی وہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ختم ھو گئی۔ اور BE انجینئر کا راستہ بن ھو گئی۔ ان میں جن جن لوگوں نے محنت کی وہ شاباشی کے حق دار ہیں۔ جنھوں نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے منہ سے نوالہ نکالا ۔ حق آنے کو ہے اور ظلم مٹنے کو ہے۔

Follow news10.pk on Twitter, instagram  and Facebook to join the conversation.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے