پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اصلاحات کرنے پر سعودی عرب کی تعریف کی ہے۔

91 Views

پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اصلاحات کرنے پر سعودی عرب کی تعریف کی ہے۔

۔۔۔محمد امانت اللہ

نگار جوہر کا تعلق آرمی میڈیکل کور سے ہے اور پنج پیر ضلع صوابی ان کا آبائی علاقہ ہے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے کانونٹ گرلز ہائی سکول سے 1978 میں مکمل کی اور 1985 میں آرمی میڈیکل کالج سے گریجوایشن کی اور پھر اسی کالج میں خاتون کمپنی کمانڈر کے طور پر کام کیا

وہ پاکستان آرمی کی تاریخ کی پہلی خاتون افسر ہیں جنہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے مسلمان خواتین کو پیغام دیا ہے کہ وہ خود پر یقین رکھیں کیونکہ وہ ہر شعبے میں ترقی کرسکتی ہیں۔
’میں بہت خوش ہوں کہ سعودی فرمان روا کی قابل تحسین اقدامات کی بدولت خواتین اب ڈرائیونگ کرسکتی ہیں۔ میں حال ہی میں عمرہ ادا کرنے کے لیے گئی تو خواتین ڈرائیورز کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی

حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں ہونے والی اصلاحات میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی ہے۔
مملکت میں ہونے والی کچھ اہم اصلاحات میں یہ بھی شامل تھا کہ قانون میں ایسی تبدیلی کی جائے جس کے تحت مختلف شعبوں میں خواتین کے حقوق زیادہ کیے جائیں اور صنفی برابری کو فروغ دیا جائے۔
نگار جوہر نے کورونا کی وبا کے دوران مدد کرنے پر خلیجی ممالک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب، بحرین، یو اے ای اور قطر نے ہماری بہت مدد کی۔ ہمیں وینٹی لیٹرز، آکسیجن جنریشن پلانٹس دیے گئے۔‘
انہوں نے اپنے کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ اپنا کام جانتے ہیں اور ایک واضح سمت میں سخت محنت کرتے ہیں تو ایسی کوئی وجہ نہیں کہ آپ پیچھے رہ جائیں۔ فوج میں میرٹ کا نظام ہے۔ میری یہاں موجودگی اس کی ایک مثال ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔