توشہ خانہ ریفرنس، فاروق ایچ نائیک اور نیب پراسیکیوٹر میں تلخ جملوں کا تبادلہ

245 Views

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک اور نیب پراسیکیوٹر میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

احتساب عدالت میں آصف علی زرداری کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت ہوئی، اس دوران آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی جانب سے نیب کے گواہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر وقارالحسن کے بیان پر جرح کی گئی۔

سماعت کے دوران فاروق نائیک نے نیب گواہ وقارالحسن کی پیش کردہ دستاویز پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ گواہ نے جو دستاویز پیش کی ہیں وہ اصل نہیں ہے۔

جس پر جج احتساب عدالت نے کہا کہ عدالت تمام ریکارڈ دیکھ چکی، اس بحث میں نہ پڑیں۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس کی روزانہ بنیاد پر سماعت کرنے کی استدعا کی گئی، نیب پراسیکیوٹر کا عدالت میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں روزانہ سماعت کی جائے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ صرف آصف زرداری کے خلاف مقدمات کو چلایا جا رہا ہے جس پر سردار مظفرعباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا روزانہ سماعت کا حکم سب پر لاگو ہوتا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ نیب اتنی جلدی نہ کرے، یہ ان کے لیے اچھا نہیں ہوگا جس پر نیب پراسیکیو ٹر سردار مظفرعباسی کا جواب میں کہنا تھا کہ اس کیس میں 4 گواہان کو آج بلایا گیا ہے، ملزمان کے وکلا ٹرائل کا عمل آگے بڑھنے دیتے ہیں نہ ہی جرح۔

احتساب عدالت میں موجود ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب کی جانب سے کہا گیا کہ یہ صرف ایک گھنٹہ کیس چلا کر تاریخ مانگ لیتے ہیں۔

کمرہ عدالت میں جرح کے دوران وکلا کی اونچی آواز میں تلخی پر جج احتساب عدالت برہم ہو گئے۔

احتساب عدالت کے جج کا برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسے کیس نہیں چلے گا۔

جس پر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نیب کسی خاص کیس کا نہیں تمام کیسوں کا ٹرائل آگے بڑھانا چاہتا ہے جس کے جواب میں  فاروق ایچ نائیک نے جواب میں کہا کہ زبردستی ٹرائل آگے نہ بڑھایا جائے، ہر تاریخ پر عدالت ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کرے، عدالت ایک طریقہ کار مرتب کر کے ٹرائل کا عمل آگے بڑھائے۔

Follow news10.pk on Twitter and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔