پی ڈی ایم اختلافات کا شکار، بیک چینل ڈائیلاگ ہونے لگے

338 Views

پی ڈی ایم اختلافات کا شکار، بیک چینل ڈائیلاگ ہونے لگے

مجھے اعتزاز احسن کا ایک انٹرویو آج بھی یاد ہے جس میں ان کا کہنا تھا کے سن 2000ء میں نواز شریف نے اپنی جماعت سے چھپ کر مشرف سے (این آر او) لیکر جب فرار ہو رہے تھے اس رات مجھے کہا آپ کیس کی تیاری تیز کریں، میں چیمبر آیا اور سب کو کام سے لگا دیا، صبح پتا چلا کے نواز شریف تو خاندان کے ساتھ فرار ہو چکے ہیں اور اس ڈیل کا پتا اس کی اپنی جماعت کو بھی نہیں تھا، اور نواز شریف اپنی جماعت  کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگ گئے۔۔

بلکل اس طرح سے آج بھی پی ڈی ایم میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی مولانا اور اپنی جماعت کے  ساتھ دھوکا کرتے ہوے دونوں جماعتیں بیک چینل سے رابطے میں لگی ہوئی ہیں، اور نیب سے آوازیں دھیمیں ہو چکی ہیں،  پیپلزپارٹی کے بڑے جیلوں سے باہر ہیں ان پر ہاتھ ہلکا ہو چکا ہے،  اور یھی وجہ ہےکہ زرداری پی ٹی آئی کی سب سے بڑی امید ہے۔ دوسرے طرف ن لیگ ہے جو ہمیشہ پتے سینے سے لگا کر کھیلتی ہے ، انہوں نے سب کو آگے لگا کر اور خد راستہ بنانے کے کوشاں ہیں، اس  لیئے شہباز شریف نے جیل کا رخ کیا ہوا ہے ڈیل کے لیئے اس سے بھتر کوئی جگھ نہیں جب کے مریم کو فرنٹ پر گولا باری جاری رکھنے کے لیئے لگایا ہوا ہے تا کہ پہلے کی طرح عوام یھی سمجھے کہ ن لیگ کسی ڈیل کا حصہ نہیں اب حکومت جس شاہد خاقان عباسی کو جیل میں ڈالنے کی بات کرتی تھی اس کا نام ای سی ایل سے نکال کر باہر جانے کی اجازت دے دی ہے وہ لنڈن جائیں گے نواز شریف کو اہم پیغام دینے جب کہ حکومت اتحادی جی ڈی ای کے رہنما نے جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کی ہے معاملات تو طئے ہو گئے ہیں۔ اب مولانا ہی ایک ہے جو چھوٹوں کی تقاریر پر اعتبار کرتے  ہوے اپنے 4 رہنماؤں کی قربانی تک دے چکے ہیں،  ان کو کیا ملے گا یے اہم سوال ضرور ہے۔۔

اب پی ڈی ایم اختلافات کا شکار اس لیئے ہو گئی ہے کہ مولانا کسی ڈیل میں جانے پر راضی نہیں وہ استعفیٰ دینا چاہتے ہیں پیپلزپارٹی اس پر بلکل راضی نہیں اب ن لیگ بھی استعفوں کے لیئے راضی نہیں کیوں کے ان کے معاملات طئی ہونے کے قریب ہیں،  اب دیکھنا یے ہے کہ کہیں دونوں جماعتوں سے ہاتھ تو نہی ہو جائے گا، کیوں کے پہلے  بھی بہت سے معاملات پر دونوں جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیکر اپنی لیئے راستے بنانے کی کوشش کی پر سب رائیگاں گیا کیوں کے عمران خان ہے جو اپوزیشن کو کسی طرح چہوڑنے کو تیار نہیں اب اس بار  سینیٹ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا پریشر  ڈال کر دونوں جماعتیں حکومت سے رلیف لے پائیں گی کہ نہیں یے بہت اہم سوال ہے…

کالم کے بارے میں اپنی رائے دینے کے لیئے  میل کریں–

shafimohammad002@gmail.com

Follow news10.pk on Twitter and Facebook to join the conversation

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے