پرسوں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لوں گا، وزیراعظم

121 Views

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینیٹ انتخابات پر قوم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 6 سال قبل جب پہلی مرتبہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا تب ہمیں اندازہ ہوا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیسہ آج سے نہیں بلکہ گزشتہ 40 دہائیوں سے چل رہا ہے، جو پیسہ لگاتا ہے وہ سینیٹر بنتا ہے اور وہ ممبران اسمبلیوں کو خریدتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس خرید و فروخت کو دیکھتے ہوئے میں نے تب سے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے طریقے سے کروانے کی مہم چلائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کروانے سے متعلق بل پیش کیا، جب ساتھ نہیں ملا تو ہم یہ کیس سپریم کورٹ لے گئے۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ پیسہ چلتا ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے میثاق جمہوریت میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ ہونے چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ میں جب سے حکومت میں آیا ہوں کہہ رہا ہوں کہ یہ سب ایک ہوجائیں گے۔ یہ مجھ پر اتنا دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں انھیں این آر او دے دو جو کہ سابق صدر جنرل مشرف نے کیا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق جب ہم بل لائے تو انھوں نے یہ بل منظور کروانے سے انکار کیا اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

اسلام آباد کی جنرل نشست پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن نے سپریم کورٹ میں شور مچایا کہ یہ سیکریٹ بیلٹنگ ہونی چاہیے تاکہ یہ یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ کے مقابلے میں پیسہ لگاسکیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجھ پر عدم اعتماد کے ووٹ کی تلوار لٹکانا چاہتے تھے، انہوں نے پوری کوشش کی کہ ہمارے ممبر توڑیں، ہماری اکثریت کو ختم کریں۔ اکثریت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام ممالک کو دیکھا ہوا تھا، وہاں قانون کی بالادستی کی وجہ سے حکمراں قانون کی گرفت میں ہیں، لیکن یہاں ایسا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ان تمام لوگوں کو این آر او دیا، اب ان لوگوں کے لیے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے پاکستان جتنا ٹیکس جمع کرتا ہے، آدھا قرض کی ادائیگی میں دے دیا جاتا ہے۔

الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شفاف الیکشن آپ کی آئینی ذمہ داری تھی، آپ نے کیوں سیکریٹ الیکشن کی حمایت کی۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہم اپنی نوجوان آبادی کے لیے کیا مثال قائم کر رہے ہیں؟ ویڈیو سامنے آئیں جن میں پیسہ دیا جارہا ہے، کیا آپ (ای سی پی) کو نہیں پتہ آپ کی کیا ذمہ داری ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو کیا مسئلہ تھا کہ آپ 1500 ووٹ پر بار کوڈ لگواتے؟

انھوں نے سوال کیا کہ کیا آپ نے آج پاکستان کی اخلاقیات کو تباہ نہیں کیا؟ جب اوپر کرپشن کی اجازت دے رہے ہیں تو نیچے کیا ہوگا؟

وزیراعظم نے قوم سے سوال کیا کہ یہ آپ پر ہے کہ آپ پاکستان کو اوپر لے جانا چاہتے ہیں یا ان چوروں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے میرا پیسہ باہر نہیں گیا بلکہ یہ پوری قوم کا پیسہ باہر گیا ہے۔

وزیراعظم نے سوال کیا کہ ایک ملک بتادیں کہ اس کے حکمران چوری کر رہے ہوں اور وہ ملک ترقی کر رہا ہو۔

انھوں نے آخر میں ایک مرتبہ پھر کہا کہ یہ لوگ مجھ پر عدم اعتماد کے ووٹ کی تلوار لانا چاہتے ہیں، اور مجھ سے این آر او مانگنا چاہتے تھے یہ سمجھتے تھے کہ مجھے کرسی عزیز ہے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے