کشیدگی کے خاتمے کی عالمی اپیلیں مگر اسرائیلی کارروائیاں جاری

159 Views
عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل کی سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے مطالبے کے باوجود پیر کو یروشلم میں جھڑپیں جاری رہیں۔
 ریڈ کریسنٹ  کا کہنا ہے کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ چھ فلسطینیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
جمعے کو امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ’واشنگٹن کو یروشلم میں جاری محاز آرئیوں پر شدید تشویش ہے۔‘ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کو پیر کے روز روشلم کے کچھ حصوں پر قبضے کی سالگرہ کے دن جشن کی قریبات سے روکا تھا تاکہ شہر میں مزید کشیدگی کو بڑھاوا نہ ملے تاہم اسرائیل نے یہ تجویز ٹھکرا دی تھی۔
فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی سابق ممبر حنان عشراوی نے امریکہ اور یورپی یونین کو چینلج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں سے روکنے کے لیے ’اپنے الفاظ پر عمل پیرا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ’جرم‘ ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’امریکیوں کو اپنی بات پر عمل کروانے کے لیے سیاسی اور معاشی طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ مذہبی آزادی کو یقینی بنانا کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘
حنان عشراوی کا کہنا ہے کہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ’جرم‘ ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ ہے (فوٹو: روئٹرز)
عشراوی کہتی ہیں کہ ’یہ وہ زبان ہے جو اسرائیلی سمجھیں گے: اگر انہیں نوازا گیا تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ یہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک امتحان ہے، امریکیوں کو یہ کہنا ہوگا کہ اب بہت ہو چکا ہے۔‘
فلسطین کے شدت پسندوں نے یروشلم میں فلسطینوں کے ساتھ پرتشدد کارروائیوں کا بدلہ لینے کے لیے پیر کے روز غزہ کی پٹی سے یروشلم اور جنوبی اسرائیل پر درجنوں راکٹ فائر کیے ہیں۔
جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بدترین جوابی کارروائی میں کم ازکم 20 فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں جس میں نو بچے شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق حماس کی جانب سے اسرائیل کو دیے جانے والے الٹی میٹم کا وقت ختم ہوتے ہی یروشلم میں سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے