طالبان نے کابل یونیورسٹی میں طالبات کے داخلے پر پابندی سے متعلق خبروں کی تردید کردی

93 Views

طالبان حکومت نے کابل یونیورسٹی میں طالبات کے داخلے پر  پابندی سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

جیو نیوز سے گفتگو میں افغان وزارت نشریات کے حکام اور کابل یونیورسٹی انتظامیہ  نے یونیورسٹی میں طالبات کے داخلے پر پابندی سے متعلق خبر کی تردید کی۔

کابل یونیورسٹی میں طالبان کے داخلے سے متعلق خبر امریکی بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے شائع کی تھی۔

کابل یونیورسٹی انتظامیہ نے  جیو  نیوز کو بتایا کہ طالبات معمول کے مطابق آرہی ہیں اور  یونیورسٹی میں خواتین اساتذہ بھی معمول کے مطابق آرہی ہیں۔

کابل یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ  بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے خبر بنائی۔

طالبان نے افغانستان میں داڑھی مونڈھنے اور خواتین کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی لگانے سے متعلق تمام خبروں کی تردید کردی۔

افغان میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارت ثقافت اور اطلاعات کے عہدیداروں نے حالیہ خبروں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ داڑھی کی لمبائی اور مختلف صوبوں میں خواتین کے اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی طالبان کی سرکاری پالیسی میں شامل نہیں ہے۔

طالبان عہدیداران کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب مبینہ طور پر افغانستان کے صوبوں کاپیسا، ہلمند اور تخار میں ایک خط حجاموں کو دیا گیا جس میں داڑھی تراشنے اور خواتین کے اسمارٹ فونز  پر  پابندی سے متعلق ہدایات درج تھیں۔

”جو کچھ سوشل میڈیا پر ہے وہ وزارت کی طرف سے نہیں ہے”

وزارت ثقافت اور اطلاعات میں ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا، جو کچھ سوشل میڈیا پر ہے وہ وزارت کی طرف سے نہیں ہے۔

افغانستان کی قومی یکجہتی پارٹی کے سربراہ سید اسحاق گیلانی نے بھی ان تمام خبروں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پابندیاں لگانے سے طالبان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح کی حرکتیں امارت اسلامی افغانستان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس سے دنیا گھبراتی ہے اور اس سے ہماری بین الاقوامی پہچان ناممکن رہے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ طالبان حکومت کے ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ کلچر حافظ رشید ہلمند نے افغان میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ مردوں کے داڑھی مونڈھوانے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کا اعلان مذہبی پولیس کی جانب سے صوبے کے حجاموں کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ کے دوران کیا گیا ہے۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر طالبان کا ایک مبینہ خط بھی گردش کررہا ہے جس میں حجاموں کو کسی بھی شخص کی داڑھی مونڈھنے کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے حجام دکانوں پر کام کے دوران موسیقی بھی نہیں بجا سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے